2025 میں عالمی قرض 3 لاکھ 46 ہزار ارب ڈالر تک جا پہنچا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انسٹیٹوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کے مطابق دنیا بھر میں قرض میں اضافے کی نئی لہر سامنے آ رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران عالمی قرض میں 26 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی عالمی قرض بڑھ کر 3 لاکھ 46 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ غیر مالیاتی کارپوریٹس کا قرض بھی تیزی سے بڑھتے ہوئے ایک لاکھ ارب ڈالر کے قریب ہو گیا ہے۔
انسٹیٹوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور صاف توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات قرضوں کے بہاؤ کو مزید تیز کر رہی ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں کی سمت تبدیل کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دنیا کا گھریلو قرض بھی 4 ہزار ارب ڈالر اضافے کے بعد 64 ہزار ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے، جو عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہزار ارب ڈالر گیا ہے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔