ایک ماہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے عمرہ کی سعادت حاصل کی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب میں حرمین شریفین کے امور کی دیکھ بھال کی جنرل اتھارٹی کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے دوران مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں 5کروڑ 40لاکھ زائرین اور نمازیوں کی تعداد ریکارڈ کی گئی ۔ خبر رساں ادارکے مطابق مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں ایک کروڑ 70لاکھ افراد نے نماز ادا کی۔ عمرہ کرنے والوں کی تعدادایک کروڑ10لاکھ ریکارڈ کی گئی۔ مسجد نبوی میں 2کروڑ 10لاکھ نمازیوں کا خیرمقدم کیا گیا۔ واضح رہے کہ حرمین شریفین کی دیکھ بھال کے امور کی جنرل اتھارٹی مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں آنے والے نمازیوں اور زائرین کی تعداد کو ٹریک کرنے کیلیے جدید سینسر ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہے۔دوسری جانب ادارہ امور حرمین نے عمرے کی ادائیگی کے لیے درکار اوسط وقت کا جدول جاری کیا ہے جس میں طواف، سعی اور مروہ سے واپسی تک کا مجموعی وقت بیان کیا گیا ہے۔جاری جدول کے مطابق عمرہ ادائیگی کا اوسط وقت 116 منٹ رہ گیاہے ۔ انتظامی اقدامات سے عمرہ زائرین کے لیے سہولت میں اضافہ ہوا۔ رواں ماہ کیے گئے سروے میں 92 فیصد زائرین نے صحن سے طواف کیا،جہاں سے طواف کا دورانیہ دیگر مقامات کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ ادارہ امورِ حرمین کے مطابق صحن مطاف کو عمرہ زائرین کے لیے مخصوص کرنے سے رش میں نمایاں کمی آئی ہے۔ طواف، سعی اور مروہ سے واپسی تک مجموعی وقت تقریباً 116 منٹ بنتا ہے۔جاری جدول کے مطابق صحن مطاف سے طواف میں اوسطاً 42 منٹ لگتے ہیں، سعی کے 7چکروں کے لیے 46 منٹ درکار ہوتے ہیں۔ مسجدالحرام میں داخل ہونے اور صحن مطاف تک پہنچنے میں 15 منٹ لگتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔