Juraat:
2026-07-24@03:49:16 GMT

ملک میں ایک جماعت سیاسی دجال کا کام کر رہی ہے ،بلاول بھٹو

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

ملک میں ایک جماعت سیاسی دجال کا کام کر رہی ہے ،بلاول بھٹو

وزیر اعلیٰ پنجاب سندھ آئیں الیکشن میں حصہ لیں مجھے خوشی ہوگی، سیاسی جماعتوں پر پابندی میری رائے نہیں
کے پی میں جنگی حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں،چیئرمین پیپلزپارٹی کی کارکن کے گھر آمد،میڈیا سے گفتگو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں ایک سیاسی جماعت ‘سیاسی دجال’ کا کام کر رہی ہے۔صوبائی دارالحکومت میں کارکن کے گھر آمد کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے پنجاب میں ایف پی سی سی آئی اے کے رہنماؤں سے ملاقات کی، حالیہ الیکشن میں مظفر گڑھ سے ہمارے ایم پی اے جیتا ہے، ڈی جی خان میں ہمارا جیتا ہوا الیکشن ہار میں تبدیل کیا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت خطرناک دور سے گزر رہا ہے، پاکستان کی بھارت کے خلاف جنگ میں فتح ہوئی، پوری دنیا میں پتہ چل گیا بھارت کے چھ طیارے گرائے گئے، ہمارا دشمن ملک اب ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے۔چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی بھارت کوشش کر رہا ہے، پاکستان کو اس وقت افغانستان سے خطرات لاحق ہے، دہشگرد آتے ہیں اور فورسزز کے جوانوں کو شہید کرتے ہیں اور افغانستان میں چھپ جاتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے بہادر افواج بارڈر کے دو طرف سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، پاکستان میں علیحدگی پسند تحریک کو ہمسایہ سے سہولت کاری مل رہی ہے، ہم اپنے ملک اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت ایسی سیاسی قوتیں ہیں جو دن رات افواج کی قیادت کے خلاف سازشیں بُنتی ہیں، وہ سوشل میڈیا پر اِس وقت سازش کرتیں جب ملک مشکل سے گزر رہا ہے، ایسی سیاسی جماعتیں سیاست سیاسی دائرہ کار میں رہ کر کریں۔چیٔرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ اِس وقت ایک سیاسی جماعت ‘سیاسی دجال’ کا کام کر رہی ہے، جمہوری روایت ہے اپوزیشن جماعت کو بھی سپیس ملنی چاہے جب کہ حکومت کے اتحادی اِس وقت سپیس مانگ رہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پہلی بار الیکشن کمیشن پر نہ اپوزیشن جماعتوں کا اعتماد اور نہ اتحادی جماعت کا اعتماد ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب سندھ آئیں الیکشن میں حصہ لیں مجھے خوشی ہوگی، سیاسی جماعتوں پر پابندی میری رائے نہیں۔اُنہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کسی سیاسی جماعت کو حق نہیں وہ فوجی تنصیبات پر حملے کریں ایسی صورت میں تو پابندی لگتی ہے، جو پی ٹی آئی خود حالات پیدا کر رہی ہے اِس سے تو پابندی لگے گی، کوئی جا کر بانی پی ٹی کو سمجھائے کہ سیاست کریں۔چیٔرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ کے پی کے کی حکومت اگر ہمیں مجبوراکرے گی، اپنی فوج کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی بجائے واپس بھیجے گی تو پھر کیا ہوگا، پی ٹی آئی کے اپنے ایکشن اِس کو پابندی کی طرف لے جا رہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کے پی میں گورنر راج لگانا میرا یا میری پارٹی کا مطالبہ نہیں ہے، میں کسی سیاسی پارٹی پر پابندی کے حق میں بھی نہیں ہوں، سیاسی پارٹی کو کے پی میں اپنا رویہ بہتر کرنا ہو گا، کے پی میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں خلل ڈالا تو مسائل بنیں گے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ کے پی کی سیاسی جماعت دہشت گردوں کی سہولت کار بنی، فوجی انخلاء کی کوشش کرے گی تو گورنر راج مجبوری بن جائے گا، کے پی میں جنگی حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت کر رہی ہے کے پی میں نے کہا کہ رہے ہیں رہا ہے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو