پابندی کا شکار حیدر علی کو پی سی بی کی طرف سے بڑا ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پی سی بی نے بیٹر حیدر علی پر عائد عارضی معطلی ختم کرتے ہوئے انہیں دوبارہ کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تصدیق کی ہے کہ حیدر علی سمیت متعدد پاکستانی کھلاڑیوں کو بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں شرکت کے لیے این او سی جاری کر دیا گیا ہے۔
دیگر کھلاڑیوں میں محمد نواز، ابرار احمد، صاحبزادہ فرحان، فہیم اشرف، حسین طلعت، خواجہ نافع اور احسان اللہ شامل ہیں۔
یاد رہے کہ قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے حیدر علی ستمبر میں مانچسٹر میں ریپ کے الزام سے بری ہونے کے بعد سے کسی بھی میچ میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔
پاکستان کی جانب سے 35 ٹی ٹوئنٹی اور دو ون ڈے میچز کھیلنے والے حیدر علی پاکستان شاہینز کے ساتھ انگلینڈ کے دورے پر تھے جب ایک برطانوی نژاد پاکستانی خاتون نے مانچسٹر پولیس میں ان کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
الزام سامنے آنے کے بعد پی سی بی نے ان کی معطلی کا اعلان کرتے ہوئے معاملے کی مکمل تحقیقات کا انتظار کیا۔
تاہم 25 ستمبر کو مانچسٹر پولیس نے عدم شواہد کی بنیاد پر کیس ختم کردیا اور عدالت میں مقدمہ لے جانے کا کوئی جواز نہ ہونے کی تصدیق کی۔
الزامات ختم ہونے اور معطلی اٹھائے جانے کے بعد اب حیدر علی بی پی ایل میں اپنی ٹیم کی نمائندگی کے لیے تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔