بھارت میں جعلی ڈگریوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، لاکھوں افراد کو جعلی اسناد جاری ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا میں پولیس نے جعلی ڈگریوں اور غیر ملکی اسناد بنانے والے وسیع نیٹ ورک کا پردہ چاک کرتے ہوئے ایک ایسی منظم سرگرمی بے نقاب کر دی ہے جو برسوں سے ملک بھر میں جعلی تعلیمی اسناد بیچ کر لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی تھی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک اب تک دس لاکھ سے زائد لوگوں کو جعلی سرٹیفکیٹس فراہم کر چکا ہے جبکہ مختلف ریاستوں سے 11 ملزمان کی گرفتاری کے بعد معاملے کی سنگینی مزید واضح ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دھوکہ دہی کے مرکز میں دھنیش عرف ڈینی نامی شخص شامل ہے جس کے خلاف 2013 میں بھی اسی نوعیت کے الزامات پر کارروائی ہو چکی تھی، سزا پوری کرنے کے بعد اس نے ایک بار پھر نیا نیٹ ورک کھڑا کیا اور ملک کی مختلف ریاستوں میں موجود ایجنٹس کو اپنے ساتھ ملا کر ایک انتہائی خفیہ نظام قائم کیا۔
رپورٹ کے مطابق دھنیش نے پولّچی میں ایک پوشیدہ پرنٹنگ پریس قائم کی جہاں بڑی یونیورسٹیوں کے جعلی سرٹیفکیٹس نہایت مہارت سے تیار کیے جاتے تھے، پھر ان پر امیدواروں کی تفصیلات درج کی جاتیں تاکہ یہ اسناد اصل لگیں۔
خفیہ کارروائی کے تحت تیار شدہ سرٹیفکیٹس پہلے بنگلور منتقل کیے جاتے اور پھر انہیں کیرالا، تامل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، گوا، دہلی اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں کے ایجنٹس کے ذریعے فروخت کیا جاتا تھا۔
پولیس کے مطابق ان جعلی اسناد پر جعلی دستخط، ہولوگرام اسٹیکرز اور یونیورسٹی اسٹیمپ تک نہایت درستگی سے تیار کیے گئے تھے۔ چھاپوں کے دوران سیکڑوں پرنٹرز، کمپیوٹرز، جعلی مہریں اور تقریباً ایک لاکھ جعلی سرٹیفکیٹس برآمد کیے گئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر 22 مختلف یونیورسٹیوں کے نام پر بنائے گئے تھے۔
بھارتی میڈیا بتاتا ہے کہ دھنیش اس غیر قانونی کاروبار سے کروڑوں روپے کما کر شاہانہ زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے پاس ملپرم میں مہنگا گھر، دو فائیو اسٹار بارز، پونے میں اپارٹمنٹس اور مشرقِ وسطیٰ میں سرمایہ کاری کے متعدد ذرائع موجود تھے۔
اسے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش میں کالی کٹ ایئرپورٹ پہنچا۔ پولیس کے مطابق اس نیٹ ورک میں ہر جعلی سرٹیفکیٹ 75 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت ہوتا تھا، جس سے دھنیش اور اس کے ساتھیوں نے خطیر دولت اکٹھی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق نیٹ ورک
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔