گیس کمپنیوں نے ٹیرف میں 28.62 فیصد تک اضافہ مانگ لیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ملک بھرکے لیےگیس کی قیمتوں میں اضافےکی درخواستیں اوگرا میں دائر کردی گئیں۔ سوئی کمپنیوں نے گیس ٹیرف میں28.62 فیصد تک اضافہ مانگ لیا، اوگرا گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سوئی ناردرن کی درخواست پر 7 نومبر اور سوئی سدرن کی درخواست پر 11نومبر کو الگ الگ سماعتیں کرے گی۔ایس ایس جی سی ایل نےسندھ اور بلوچستان کے لیے گیس ٹیرف میں گزشتہ سال کے بقایاجات شامل کرکے مجموعی طور پر گیس ٹیرف میں تقریبا 22 فیصد کے اضافےکی درخواست کی ہے جبکہ ایس این جی پی ایل نے اسلام آباد سمیت پنجاب اورخیبر پختونخواکے لیے گیس ٹیرف میں28 اعشاریہ 62فیصداضافےکی درخواست کی ہے۔سوئی ناردرن نے گیس ٹیرف میں اوسطا 189روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ مانگا ہے جبکہ316روپے 64 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یوکاسٹ آف ایل این جی سروس کی مد میں بھی مانگے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گیس ٹیرف میں کی درخواست
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔