Jasarat News:
2026-06-03@06:19:05 GMT

سردیاں آتے ہی گیس بند کر دی گئی ہے، عبدالجبار خان

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251212-2-4
حیدرآبد(اسٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے بحالی عبدالجبار خان نے کہا ہے کہ سردیوں کے آتے ہی ایک مرتبہ پھر حیدرآباد سمیت دیگر شہرو میں سوئی گیس کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم پریشر نے شہریوں کو مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔ خاص طورپر حیدرآباد کے صنعتی علاقے سائٹ ایریا میں گیس کی لوڈشیڈنگ سے صنعتیں ، مل کارخانے، فیکٹریاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ ایک طرف تو گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے تو دوسری جانب گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر سے شہری براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں پر اس کا اثر پڑرہا ہے اس لئے وفاقی حکومت اس مسئلے کا فوری طورپر سدباب کرے کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور لوڈشیڈنگ اب غریب افراد کیلئے ناقابل برداشت ہوتی جارہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ حیدرآباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں سوئی گیس سے لوگوں کا گزر بسر ہے ، گیس نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں خواتین بھی پریشان ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گیس کی

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن