ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 29 October, 2025 سب نیوز
تہران (آئی پی ایس) ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، ایرانی صدر نے مسلم ممالک کے درمیان مشترکہ دشمنوں کے خلاف اتحاد اور اخوت کے مظاہرے پر زور دیا ۔ محسن نقوی نے کہا خطے میں کشیدگی کم کرنے میں ایران کے فعال کردار کا خیرمقدم کریں گے۔
ایرانی صدرڈاکٹرمسعود پزشکیان سےملاقات میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دوطرفہ تعلقات اور خطے کی سلامتی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا۔ پاک ایران سرحدی امور اور زائرین کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔ صدر مسعودپزشکیان نے کہا پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔
اس سے پہلے ایران پہنچنے پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا تہران ائیر پورٹ پر ایرانی نائب وزیر داخلہ علی زینوند نے استقبال کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں باہمی تعلقات کے فروغ اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغانستان کے ساتھ مذاکرات ناکام، پاکستان کا دہشتگردوں اور انکے حامیوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان افغانستان کے ساتھ مذاکرات ناکام، پاکستان کا دہشتگردوں اور انکے حامیوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کور کمانڈر سے ملاقات کا سوال مجھ سے نہیں وزیراعلی کے پی سے کریں، بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ،خیبرپختونخوا کی مختصر کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ خیبرپختونخوا حکومت کسی سزا یافتہ شخص کی مشاورت پر چلانا آئین کے منافی ہے، طلال چوہدری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کی بنگلادیش کے آرمی چیف سے ملاقات،دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو غزہ میں فوری اور شدید حملوں کا حکم دیدیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغانستان کے کے درمیان
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔