جعلی پاکستانی کرنسی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، بس ڈرائیور گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد نے جعلی پاکستانی کرنسی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناکر بس ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔45 لاکھ روپے کے جعلی کرنسی نوٹ برآمد کرلیے گیے۔
حکام کے مطابق ایف آئی سی کمرشل بینکنک سرکل اسلام آباد کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر اٹک کے ایم-1 ٹول پلازہ کے باہر چھاپہ مارا اور نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے بس ڈرائیور راویز خان کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے 5000 مالیت کے 800 جعلی نوٹ برآمد کرلیے۔
برآمد رقم کی مجموعی مالیت 40 لاکھ روپے بنتی ہے، برآمد کرلیے، ملزم نے جعلی کرنسی انتہائی مہارت سے اپنے کپڑوں میں چھپائی ہوئی تھی اور بس کو پشاور سے ملتان لے کر جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ ملزم جعلی کرنسی کی اسمگلنگ میں ملوث ہے اور گینگ گزشتہ کئی ماہ سے جعلی نوٹ کی ترسیل میں ملوث ہے ملزم پشاور کے رہائشی رکشہ ڈرائیور سے جعلی کرنسی نوٹ وصول کرتا تھا۔
مذکورہ جعلی نوٹ ملتان میں گینگ کے ساتھی کے حوالے کرتا تھا جبکہ ملزم کو ایک لاکھ روپے مالیت کے جعلی نوٹ کی حوالگی کے عوض 2000 روپے بطور کمیشن ملتا تھا۔
ملزم اس سے قبل بھی ملتان میں جعلی نوٹ کی ترسیل کر چکا ہےایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرکےجعلی کرنسی نوٹ بنانے اور ترسیل میں ملوث مذکورہ نیٹ ورک کے گرد عناصر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کردیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جعلی کرنسی جعلی نوٹ
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔