کراچی؛ فلیٹ سے 3 خواتین کی لاش ملنے کا معاملہ، گھر کے سربراہ کا اہم خط سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
کراچی:
گلشن اقبال میں فلیٹ سے ماں، بیٹی اور بہو کی لاشیں اور بیٹے کا بے ہوشی کی حالت میں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق واقعے سے قبل گھر کے سربراہ اقبال اور بہو ماہا نے اپنے آخری خطوط بھی تحریر کیے، گھر کے سربراہ اقبال کی جانب سے لکھا گیا خط ایکسپریس نیوز نے حاصل کر لیا۔
گھر کے سربراہ اقبال نے علی عطاری نامی شخص کو خط لکھا تھا، جس پر 12 دسمبر 2025 کی تاریخ درج ہے۔
خط میں لکھا ہے کہ علی عطاری آپ کو عبدالقادر کی طرف سے جو بقایا رقم ملے وہ ہماری تدفین وغیرہ پر خرچ کر دینا، کسی اور کو اخراجات نہ کرنے دینا، میرے رشتہ داروں کو بھی نہ بتانا، یہ ساری باتیں اپنے تک رکھنا اور کسی کو نہ بتانا۔
خط پر علی عطاری، عبدالقادر، بہن زرینہ اور بھائی یوسف کے نام اور موبائل فون نمبرز لکھے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق گھر کے سربراہ نے خط لکھا ضرور لیکن بھیجا نہیں، گزشتہ روز بیٹے یاسین کا پولیس نے بیان بھی قلمند کیا تھا۔
بیٹے نے بتایا تھا کہ زہریلی اشیا جوس میں ملا کر پی تھی اور اہلِ خانہ پر ڈیڑھ کروڑ سے زائد کا قرض تھا، مبینہ طور پر قرض ادا کرنے سے بچنے کے لیے انتہائی قدم اٹھایا۔
پولیس حکام کے مطابق خواتین کی موت کی وجوہات پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئیں گی، پولیس اور تفتیشی ٹیم کو فلیٹ سے زہریلی اور چوہے مار زہریلی ادویات محلول حالت میں ملے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل گھر کے سربراہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.