بھارتی پولیس نے حریت رہنما جاوید میر کو سرینگر سے گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پولیس نے دعویٰ کیا کہ جاوید میر کو 1996ء میں بھارت مخالف اور آزادی پسند سرگرمیوں سے متعلق ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے آزادی پسند قیادت کے خلاف جاری کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے سرینگر میں سینئر حریت رہنما جاوید احمد میر کو گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے زینہ کدل کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کر کے شیرگڑی پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ جاوید میر کو 1996ء میں بھارت مخالف اور آزادی پسند سرگرمیوں سے متعلق ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پرانی ایف آئی آر میں کئی سرکردہ حریت رہنمائوں کو نامزد کیا گیا تھا جن میں شہید سید علی گیلانی، عبدالغنی لون، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، شکیل بخشی، جاوید میر اور دیگر شامل تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دہائیوں پرانے مقدمات کو دوبارہ کھولنا پرامن سیاسی جدوجہد کو دبانے کے لیے کشمیری قیادت کو ہراساں کرنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کی بھارت کی مسلسل کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جاوید میر پولیس نے میر کو
پڑھیں:
کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
فیروزوالہ (نامہ نگار) شرقپور خورد کوٹ عبدالمالک میں ایک شخص وقاص احمد نے بیوٹی پارلر پر جا کر سابقہ بیوی مسرت بی بی اور جواں سال بیٹی ایمان فاطمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینک دیا جس سے مسرت بی بی جسم پر تیزاب پڑنے سے بری طرح جھلس گئی جبکہ ایمان فاطمہ معمولی زخمی ہوئی۔ دریں اثناء ایس ایچ او کوٹ عبدالمالک نے بتایا ہے کہ ملزم وقاص احمد نشہ کا عادی ہے۔ وقوعہ کے وقت وقاص احمد اپنی بیٹی ایمان فاطمہ کو ملنے کی خاطر سابقہ بیوی مسرت بی بی کے بیوٹی پارلر پر آیا جہاں مسرت بی بی نے بیٹی کو ملانے سے انکار کر دیا۔ ملزم شیخوپورہ کے قریب قصبہ بھکھی میں رہ رہا ہے جس کو گرفتار کرنے کی خاطر اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔