پنجاب فوڈ اتھارٹی نے شہریوں کو مردہ گوشت کھلانے کی کوشش ناکام بنا دی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
رحیم یار خان:
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صادق کینال روڈ پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے ٹرک سے مردہ مرغیوں کا گوشت برآمد کرلیا۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق برآمد کیا گیا مضرِ صحت گوشت ایک ہزار کلو سے زائد تھا، جسے فوری طور پر تلف کردیا گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ مردہ مرغیاں مختلف فاسٹ فوڈ پوائنٹس کو سپلائی کی جانی تھیں۔
فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں نے موقع پر موجود افراد سے تفتیش کی جبکہ ملوث گروہ کے خلاف تھانہ بی ڈویژن میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیار گوشت ہرگز نہ خریدیں اور ہمیشہ اپنی موجودگی میں ذبح کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی فوڈ اتھارٹی کی اولین ترجیح ہے۔
فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا کہ مضر صحت گوشت فروخت کرنے یا سپلائی میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت سخت کارروائیاں جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فوڈ اتھارٹی نے
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :