وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات، دو طرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے، ملاقات گرمجوشی اور خیرسگالی کے ماحول میں ہوئی اور باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا ترکمانستان میں عالمی فورم سے خطاب
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جمعے کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں انٹرنیشنل ایئر آف پیس اینڈ ٹرسٹ اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے ملاقات کی، ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا، جو پاکستان اور ایران نے رواں سال بیرونی جارحیت کے دوران ایک دوسرے کو فراہم کیا۔
وزیر اعظم نے پاکستان ایران جوائنٹ اکنامک کمیشن کے 22 ویں اجلاس کے کامیاب انعقاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی تجارت کے حجم میں اضافے، بارڈر مارکیٹس کے فعال کرنے، سرحدی سیکیورٹی مضبوط بنانے اور اسلام آباد تہران استنبول ریلوے کنکٹیویٹی کو بحال کرنے کے لیے مزید قریب تعاون کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ترکمانستان کے صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق
وزیر اعظم نے خطے اور عالمی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے افغان طالبان انتظامیہ پر زور دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی، تاکہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے لیے درپیش سنگین سیکیورٹی خدشات خصوصاً دہشت گردی کے مسئلے کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ایرانی صدر نے خیالات کے مفید اور بروقت تبادلے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف ترکمانستان کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے
ملاقات میں پاکستان اور ایران کے دیرینہ، برادرانہ اور تاریخی تعلقات کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کی مشاورتی سرگرمیاں جاری رکھنے اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، وزیر اعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے لیے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایران پاکستان ترکمانستان شہباز شریف مسعود پزشکیان وزیر اعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران پاکستان ترکمانستان شہباز شریف مسعود پزشکیان وزیراعظم شہباز شریف اعظم شہباز شریف سے ملاقات پر اتفاق کے لیے
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔