Express News:
2026-06-03@07:33:43 GMT

جنگ 1971: بریگیڈئیر (ر) محمد سرفراز کی آنکھوں دیکھی داستان

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

اسلام آباد:

1971 کی پاک بھارت جنگ میں بھارتی تربیتی یافتہ دہشتگرد گروہ مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں بے رحمی سے قتل عام کیا۔

جنگ میں پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ دہشتگرد تنظیم مکتی باہنی نے بھارتی سرپرستی میں اپنے سنگین جرائم اور مظالم کا ملبہ پاک فوج پر ڈالنے کیلئے زہریلا پروپیگنڈا پھیلایا۔

پاک فوج کے بریگیڈئیر محمد سرفراز (ریٹائرڈ) نے جنگ 1971ء کی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ جولائی 1971 میں مشرقی پاکستان میں حالات کے بگڑنے کے بعد نومبر میں ہم نے دفاعی پوزیشنز سنبھال لیں۔ 22 نومبر کو بھارت نے مشرقی پاکستان پر جارحانہ حملہ کردیا۔

 بریگیڈئیر (ر) محمد سرفراز نے بتایا کہ کمانڈنگ آفیسر کو ہیڈکوارٹر طلب کر کے  4 دسمبر کو "منور کمپلیکس" فتح کرنے کا حکم دیا گیا، منور کمپلیکس میں دشمن کے تین بڑے ٹینک موجود تھے جو مسلسل جنگی کارروائیوں میں استعمال کیے جارہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مقام سے ہماری  پیش قدمی روکنے کیلئے بھارتی آرٹلری بلا توقف گولہ باری کرتی رہی، کمانڈنگ آفیسر تقریباً 200 گز کے فاصلے پر موجود تھے، جب ان کے سینے اور سر پر گولیاں لگیں۔ کمانڈنگ آفیسر سمیت 12 جوان شہید جبکہ 35 سے زائد زخمی ہوئے۔

 بریگیڈئیر محمد سرفراز (ریٹائرڈ) نے بتایا کہ  اہم محاذ پر سب سے پہلے میں نے اپنے ساتھیوں کیساتھ  مائن فیلڈ میں قدم رکھا۔ اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے ہم آگے بڑھے تو دشمن منور کمپلیکس میں ٹینک اور مشین گنیں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دریائے توی کے کنارے پردو (فوجی) کمپنیوں کو تعینات کیا اور دشمن جمریال پوسٹ پر بھی اپنے ٹینک چھوڑ کر بھاگ گیا۔ 30 سے 40 ہزار میٹر رقبہ ہمارے قبضے میں آ گیا جو الحمداللہ آج بھی محفوظ ہے۔

 بریگیڈئیر محمد سرفراز (ریٹائرڈ) کا کہنا تھا کہ 1971 کے شہداء  قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں جنہوں نے اسلام اوروطن کی حفاظت کیلئے  جانوں کی قربانیاں دیں، 1971 کی جنگ میں بھارتی سرپرستی میں سفاک مکتی باہنی کےمنظم حملوں سے مشرقی پاکستان میں خونریزی کی انتہا تاریخ کا سیاہ باب ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مشرقی پاکستان بتایا کہ

پڑھیں:

کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا

کینیڈا کا روایتی، پرامن اور کثیر القومی کلچر اس وقت بھارتی امیگریشن اور ڈانس کلچر کی بے ہنگم یلغار کی زد میں ہے، جس پر سماجی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈین شناخت کے مٹنے کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے۔

Canada has turned into an Indian colony!!!!

Canadians are now a minority in Toronto and the flood of immigrants is larger than ever before.

We cannot let this happen to us. Wake up!!!! pic.twitter.com/TIxnzuLeS7

— Știrile Rezistenței ???????? ???????? (@RomaniaMare1918) June 2, 2026

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’رومانیا ماره 1918‘ نامی اکاؤنٹ سمیت متعدد حلقوں کی جانب سے جاری کردہ حقائق کے مطابق کینیڈا غیر ملکی امیگریشن، بالخصوص بے لگام بھارتی آبادی کے بوجھ تلے دب کر تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ ٹورنٹو جیسے بڑے کینیڈین شہروں میں صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ وہاں کے اصل مقامی کینیڈین شہری اب اپنے ہی وطن میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل

اس بے ہنگم ثقافتی یلغار اور بھارتیوں کی حد سے بڑھتی ہوئی تعداد کو ملک کے لیے ایک بھیانک سماجی و آبادیاتی تبدیلی (ڈیموگرافک شفٹ) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے کینیڈا کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔

کینیڈا کے لیے صرف بھارتی ثقافتی یلغار ہی دردِ سر نہیں، بلکہ کینیڈا میں مقیم بھارتی شہریوں اور سٹوڈنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہی ملک میں سنگین اسٹریٹ کرائمز، فراڈ، گینگ وار اور بدمعاشی کلچر میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کینیڈا کا پرامن معاشرہ اب بھارتی گینگز کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے۔

کینیڈا میں بسنے والے مظلوم سکھوں (خالصتان تحریک کے حامیوں) کے خلاف مودی سرکار کی ماورائے عدالت کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی نے کینیڈا کی خودمختاری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مودی حکومت کی شہ پر کینیڈین دھرتی پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بھارتی ایجنسیوں کے خفیہ نیٹ ورک اور ہتھکنڈوں نے کینیڈا کے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

کینیڈا کی سرزمین پر بھارتی مداخلت اور سکھوں کے خلاف ان سفاکانہ کارروائیوں کے باعث ماضی میں کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات شدید ترین پستی کا شکار ہوئے، سفارت کاروں کو ملک بدر کیا گیا اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایسی تلخی اور دوری پیدا ہوئی جو آج تک برقرار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین حکومت نے بھارتی یلغار، جرائم اور نئی دہلی کی ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف اب بھی سخت ایکشن نہ لیا تو کینیڈا کی قومی شناخت اور امن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت بھارتی کلچر ٹورنٹو کینیڈا

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر