اللہ تعالیٰ نے ہماری افواج کو محافظ حرمین شریفین ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے، سربراہ جامعۃ الرشید
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کنونشن سینٹر اسلام آباد میں قومی علماء و مشائخ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف مکتبہ فکر کے علماء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
سربراہ جامعۃ الرشید مفتی عبدالرحیم نے کانفرنس سے خطاب میں پاک فوج سے مکمل اظہار یکجہتی اور عسکری قیادت کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک جن جنگی حالات سے گزر رہا ہے اس میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ سیاسی قیادت اور فوجی قیادت یکجا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت جس طریقے سے اکٹھے ہو کر چل رہے ہیں، یہی ہمارا آئین، دین اور ہماری شریعت ہے جس پر قوم کو شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری افواج کو محافظ حرمین شریفین ہونے کا سب سے بڑا شرف عطا فرمایا ہے۔
مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ہماری فوج نہ صرف اسلامی فوج ہے بلکہ حرمین شریفین کی محافظ بھی ہے اور یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے ہماری فوج کو عطا فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہماری فوج کو غزوہ ہند کی توفیق عطا فرمائی ہے، اس لیے ہمیں اپنی فوج کو ہر صورت میں سپورٹ کرنا چاہئے۔
مفتی عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ فتنۃ الخوارج کے بارے میں 42 احادیث ہیں، اس فتنے سے لڑنے اور اس کی سرکوبی کیلئے اللہ تعالیٰ نے عسکری قیادت اور ہماری فوج کو منتخب فرمایا ہے، فتنۃ الخوارج کو ختم کرنے کے لیے اس وقت علماء کرام کی مدد کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں خوارج مذہب کی بنیاد پر دہشتگردی کرتے ہیں، میں تمام علماء سے گزارش کروں گا کہ وہ افغانستان کو تنبیہ کریں کہ اسلام کے نام پر پاکستان کے معصوم شہریوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ افغانستان میں فتنۃ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو بھارت اور اسرائیل کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، تمام علمائے کرام کو اس کے تدارک کیلئے یک زبان ہو کر اپنی فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ اس وطن کی سرحدوں کی حفاظت سپہ سالار اور اس وطن کے نظریہ کی حفاظت علماء کرام نے کرنی ہے، مدارس کے 30 لاکھ طالبعلم آپ کے حکم کے منتظر ہیں، مئی میں پاکستان کو فتح اللہ تعالیٰ کی مدد، قوم اور فوج کے اتحاد سے حاصل ہوئی۔
مرکزی جنرل سیکریٹری شیعہ علماء کونسل علامہ شبیر حسن میثمی کا کہنا تھا کہ بنیان المرصوص دنیا میں ہماری عزت اور شرف کا باعث بنا ہے، پاک فوج کے شہداء نے ملک کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں، پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
جمعیت اہلحدیث کے علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے معرکہ حق میں تاریخی فتح حاصل کی، ہم کسی نام نہاد سیاست دان کو سیاست کے نام پرپاک فوج کے کسی سپاہی کیخلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
پیر حسن حسیب الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اسلام اور پاکستان کی سربلندی کے لیے قدم قدم پر علماء آپ کے ساتھ ہیں، آج پاکستان کے پاسپورٹ کو عزت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور اوورسیز پاکستانی سر اٹھا کے چلتے ہیں۔
پیر حسن حسیب الرحمان نے کہا کہ اگر پیغام پاکستان کو قانون کا حصہ بنا لیا جائے تو یقیناً دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے کارآمد ثابت ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مفتی عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی فرمایا ہے ہماری فوج نے کہا کہ فوج کو فوج کے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔