data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان روایتی معنوں میں جنگ بندی موجود نہیں اور زمینی صورتحال اب تک اس نہج پر نہیں پہنچی کہ اسے بہتر قرار دیا جاسکے،  پاکستان کو افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور تحریری ضمانتیں چاہئیں۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ افغانستان میں منظور کی جانے والی حالیہ قرارداد کے مسودے کا ابھی انتظار ہے، افغان حکام کی جانب سے اپنے شہری کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اعتراف مثبت پیش رفت ہے، پاکستان اس معاملے پر مزید پیش رفت کے لیے تحریری یقین دہانیوں کا خواہاں ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان بھیجا جانے والا امدادی قافلہ مکمل طور پر کلیئر ہے، اب یہ طالبان حکومت پر ہے کہ وہ اس امداد کو وصول کرتی ہے یا نہیں، افغان عوام کی مشکلات کے پیش نظر اقوام متحدہ کی درخواست پر یہ قافلہ روانہ کیا گیا، کابل میں پاکستان کا سفارتی مشن فعال ہے اور ممکنہ دہشت گردوں و ان کے سہولت کاروں سے متعلق ضروری معلومات افغان حکام تک پہنچائی گئی ہوں گی۔

بھارتی وزیر خارجہ کے حالیہ اشتعال انگیز بیان کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سرحدوں کے تحفظ کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں، بھارت مسلسل ریاستی پشت پناہی میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور افغان سرزمین پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے گروہوں کی معاونت بھی کوئی راز نہیں۔

ترجمان کے مطابق بھارت نے سارک عمل کو منجمد کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے علاقائی تعاون متاثر ہو رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا غیر قانونی قبضہ اور سینکڑوں کشمیریوں کی جبری قید انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2800 کشمیری غیرقانونی طور پر بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔

غزہ کی صورتحال کے حوالے سے طاہر اندرابی نے بتایا کہ رفاہ کراسنگ کھولنے سے متعلق اسرائیلی اعلان پر پاکستان سمیت آٹھ اسلامی اور عرب ممالک نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے، غزہ میں کسی ممکنہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں افرادی قوت بھیجنے کا فیصلہ ہر ملک کی اپنی صوابدید ہوگا اور پاکستان نے تاحال ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا کوئی باضابطہ معاہدہ موجود نہیں، اسی وجہ سے ایسے معاملات کیس ٹو کیس بنیاد پر نمٹائے جاتے ہیں۔

وہاج فاروقی ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ پاکستان

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر