فیض حمید طاقت کے نشے میں اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے رہے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
چیئرمین پیپلز پارٹی نے فیض حمید کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے میں مددگار ثابت ہوگا وہ طاقت کے نشے میں اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے رہے اور آج کے فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ غیرقانونی اقدامات کئے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے پیپلز پارٹی سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور پی ٹی آئی کا طرز سیاست گورنر راج والے حالات پیدا کر رہا ہے۔ چنیوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سخت اقدامات کے دوران خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے، لیکن ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اس پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے فیض حمید کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے میں مددگار ثابت ہوگا وہ طاقت کے نشے میں اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے رہے اور آج کے فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ غیرقانونی اقدامات کئے گئے۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے بطور وزیراعظم طاقت کے نشے میں دھمکیاں دی، مخالفین کو نشانہ بنایا اور سیاست میں غلط روایت ڈالی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں مریم نواز اور فریال تالپور کو جیل میں رکھا گیا اور آج خود بند ہے یہی مکافات عمل ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے 27ویں آئینی ترمیم اور میثاق جمہوریت کے وعدے پورے کرنے پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے حل کیلئے وہ پُرعزم ہیں جبکہ ایف بی آر کی کمزوریوں کا بوجھ صوبوں کے عوام نہیں اٹھا سکتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیئرمین پیپلز پارٹی طاقت کے نشے میں بلاول بھٹو کے فیصلے کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔