شمالی کوریا کی خواتین فٹ بال ٹیم نے فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل عبور کرتے ہوئے فیفا انڈر-17 خواتین ورلڈ کپ جیت لیا، ٹیم نے یہ چوتھا ٹائٹل جیت کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

فائنل میچ مراکش کے را بات اولمپک اسٹیڈیم میں ہفتے کے روز کھیلا گیا جہاں شمالی کوریائی کھلاڑیوں نے پہلے ہاف میں ہی 3 گول کر کے نیدرلینڈز کو 3 صفر سے شکست دی، جو اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار شریک تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سونیا مصطفیٰ نے پہلی خاتون فیفافٹبال ریفری بن کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا

شمالی کوریا نے اس سے قبل 2008، 2016 اور 2024 میں بھی یہ ٹائٹل جیتا تھا اور وہ واحد ملک ہے جس نے 4 چیمپئن شپ جیتی ہیں۔

2024 کے بعد فیفا نے خواتین ورلڈ کپ ہر سال منعقد کرنے کا فیصلہ کیا، 2025 کے ٹورنامنٹ میں 24 ٹیمیں شریک ہوئیں، جن میں سے 4 ممالک پہلی بار میدان میں اترے۔ دفاعی چیمپئن شمالی کوریا نے فائنل تک پہنچنے سے پہلے میزبان مراکش کو 1-6، جاپان کو 1-5 اور سیمی فائنل میں برازیل کو 0-2 سے ہرایا۔

فائنل میں شمالی کوریائی ٹیم نے ابتدائی لمحے سے ہی جارحانہ حکمت عملی اپنائی اور ڈچ دفاع کو توڑ دیا۔ کم وون-سم نے 14ویں منٹ میں پہلا گول کیا.

یہ بھی پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ: باحجاب کھلاڑی نوہیلہ کا اسلاموفوبیا کو منہ توڑ جواب، عرب میڈیا

اس کے بعد پاک رئے یونگ نے دوسرا اور ری یوئی گیونگ نے ہاف ٹائم سے قبل تیسرا گول اسکور کیا۔ یہ 0-3 کی فتح فائنل میں سب سے بڑی مارجن تھی اور شمالی کوریا کی خواتین یوتھ فٹبال میں بالادستی کو ثابت کرتی ہے۔

انفرادی ایوارڈز میں بھی شمالی کوریائی کھلاڑیوں نے کامیابی حاصل کی۔ یو جونگ ہیانگ نے گولڈن بال جیت کر بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا اور گولڈن بوٹ جیت کر آٹھ گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر بھی بنیں۔ کم وون-سم نے سات گول کے ساتھ سلور بال اور سلور بوٹ حاصل کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news خواتین ورلڈ کپ شمالی کوریا فائنل فیفا نیدرلینڈ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خواتین ورلڈ کپ شمالی کوریا فائنل فیفا نیدرلینڈ شمالی کوریا ورلڈ کپ ٹیم نے جیت کر

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار