ایف آئی اے کی کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی، غیرقانونی راستے سے بیلاروس جانے والے دو مسافر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
کراچی:
ایف آئی اے نے وزٹ ویزے کی آڑ میں غیرقانونی راستے سے بیلاروس جانے کی کوشش ناکام بنادی۔
ترجمان ایف آئی اے کےمطابق ایف آئی اے امیگریشن کراچی ایئرپورٹ نے وزٹ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی راستے سے بیلاروس جانے والے 2 مسافروں کو آف لوڈ کیا، مسافروں میں محمد آکاش اور اسد رحمان شامل ہیں،جن کاتعلق کوٹلی آزادکشمیر سے ہے۔
مسافر خلیجی ملک کی ایئرلائن کی پرواز ایف زیڈ330کے ذریعے وزٹ ویزے پر آذربائیجان جارہےتھے، مسافر اسد رحمان کا پاسپورٹ ٹمپرڈ شدہ تھا اور پاسپورٹ سے ویزہ صفحات غائب تھے، مسافروں کے سامان سے جعلی پروٹیکٹرز اسٹمپس بھی برآمد کرلی گئی، مسافروں کے موبائل فون سے آذربائیجان کے جعلی ورک ویزے، پولیس سرٹیفیکیٹ، پروٹیکٹر اور بینک ٹرانزیکشنز کی تصاویر بھی برآمد کی گئیں۔
ترجمان ایف آئی اے کےمطابق مسافروں نےآذربائیجان سے بعد ازاں غیرقانونی طورپر بیلاروس جانا تھا، اس تناظر میں مسافروں نے ایجنٹ کو 14 لاکھ روپے فی کس بطور کیش اور بینک ٹرانزیکشن کے ذریعے ادا کیے، بعد ازاں مزید قانونی کارروائی کے لیے مسافروں کو اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔