Express News:
2026-06-03@05:44:50 GMT

ستائیسو یں آئینی ترمیم ... جمہوریت مستحکم ہوگی ؟؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

ملک میں اس وقت سب کی نظریں 27 ویں آئینی ترمیم پر لگی ہیں۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد یہ ترمیم سینیٹ میں پیش کی گئی اور اس کا مسودہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ اس مسودے پر مکمل مشاورت کے بعد اسے حتمی منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

27ویں ترمیم کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف ماہرین کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر اعجازبٹ

(سینئر تجزیہ کار)

آئینی ترمیم کیلئے آئین میں دیا گیا طریقہ کار اپنانا انتہائی اہم ہے۔ ضروری ہے کہ ترمیم پر سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں میں طویل بحث ہو اورہر رکن اس پر اظہار کرنے دیا جائے ۔ ان اجلاسوں کو براہ راست نشر کیا جائے تاکہ عوام اور ووٹرز کو بھی معلوم ہوسکے کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بناء پر آئینی ترمیم ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ 1973ء کا آئین تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ آئین ہے جس کی اصل شکل کو ہم بار بار تبدیل کرتے رہے ہیں اور بعض ایسی ترامیم بھی لائی گئیں جن سے اس کی اصل روح متاثر ہوئی۔

26 ویں ترمیم پر اسمبلی میں نہ بحث ہوئی اور نہ ہی اراکین اسمبلی سے کوئی رائے لی گئی۔ جس طرح اس ترمیم کو منظور کیا گیا اس میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ اگر 27 ویں ترمیم، 26 ویں ترمیم کے تسلسل میں ضروری ہے اور اسے بغیر بحث کے منظور کرایا جاتا ہے، اس کا شق وار جائزہ نہیں لیا جاتا، اسے پارلیمنٹ کی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور میڈیا کے ذریعے عوام تک نہیں پہنچایا جاتا تو اس پر بھی شکوک و شبہات ہوں گے اورنتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ 27 ویں ترمیم میں بعض چیزیں مثبت ہیں۔

آرٹیکل 160 کے تحت این ایف سی ایوارڈ کا آغاز کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ہر پانچ سال بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا۔زیادہ تر ٹیکس کیونکہ وفاقی حکومت اکٹھا کرتی ہے لہٰذا اس میں صوبوں کے حصے کے حوالے سے مختلف فارمولے اپنائے گئے ۔ 2009ء میں ایک فارمولا بنا جس میںآبادی کے ساتھ ساتھ غربت کی شرح ، پسماندگی اور محاصل میں حصے کے حساب سے صوبوں کو ان کا حصہ ملے گا جو وفاق انہیں ادا کرے گا۔ اس وقت سے لے کر آج تک وہی ایوارڈ چل رہا ہے ۔

اب وفاقی سطح پر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ وفاق کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوچکی ہیں، ڈیفنس اور سکیورٹی کی بہت بھاری ذمہ داری وفاق پر ہے لہٰذا این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ان کا شیئر دینے کے بعد وفاق کے پاس بہت کم پیسہ بچتا ہے۔ قرض بھی وفاقی حکومت لیتی ہے، اس میں سے صوبوں کو تو ان کا حصہ مل جاتا ہے لیکن قرض وفاق نے ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے وفاق کا حصہ کم رہ جاتا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پاتا۔ اب اس میں تبدیلی کی باتیں و رہی ہیں تاکہ وفاق کا حصہ بڑھایا جاسکے۔ 18 ویں ترمیم میں بہت سے محکمے صوبوں کو منتقل ہوگئے اور انہیں ان کا حصہ بھی زیادہ مل گیا لیکن وفاق کا شیئر کم ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور بہبود آبادی کے شعبے وفاق واپس لینا چاہتا ہے، یہ مثبت ہے۔ ا س کی وجہ یہ ہے کہ آبادی کی شرح جس تیزی سے بڑھی ہے ا س کی روک تھام میں صوبوں نے اپنا کردار نہیں کیا۔ اب آبادی ہمارے لیے بڑا مسئلہ بن گیا ہے، اس پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے اور بوجھ وفاق کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

عالمی سطح پر نظام تعلیم میں بڑی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ صوبوں کو تعلیم کے حوالے سے اختیارات دینے سے دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنا اور نظام تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ صوبے عالمی معیار کے مطابق شعبہ تعلیم کو اپ گریڈ نہیں کرسکے۔ تعلیم اور بہبود آبادی کے حوالے سے ترامیم مثبت ہیں، یہ کام وفاق کے ذمے ہو تو بہتری لائی جاسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی 18 ویں ترمیم کا کریڈٹ لیتی ہے اور فخر سے کہتی ہے کہ ہم نے محکمے اور اختیارات صوبوں کو دیے ۔ اب اگر یہ شعبے مرکز کے پاس چلے جاتے ہیں تو پیپلز پارٹی پر بھی سوال اٹھے گا۔آئینی عدالتوں اور مجسٹریسی کا نظام قائم کرنے کی بات بھی ہو رہی ہے۔

عدلیہ پہلے ہی کمزور ہوچکی ہے، اس پر انتظامیہ کا کنٹرو ل ہے۔ 26ویں ترمیم میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، اب نچلی سطح پر مجسٹریسی نظام کی بات ہو رہی ہے۔ یہ انگریز کا نظام تھا جسے ہم آزما چکے ہیں۔ ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنرز کے پاس انتظامی اختیارات ہیں، اب انہیں جوڈیشل پاورز بھی دی جا رہی ہے،یہ اختیارات کی تقسیم کے بنیادی اصول کے خلاف ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ہم نے دیکھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی اور مسائل پیدا ہوئے۔

بجائے اس کے ضلعی سطح پر عدلیہ کو مضبوط اور موثر بنایا جاتا، ہم نے دوبارہ انگریز دور کے پرانے ایگزیکٹیو مجسٹریسی کے نظام کو اپنانے کافیصلہ کیا ہے۔ اس سے کیا نتیجہ نکلے گا یہ عملدرآمد کے بعد ہی پتا چلے گا۔ ہائی کورٹ کے ججوں کو ان کی مرضی کے خلاف کسی بھی دوسرے ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کرنے کی جو شق شامل ہوگی یہ بھی عدلیہ کی آزادی پر بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔ انتظامیہ بہت حد تک جوڈیشل کمیشن جہاں ججوں کی تقرری ہوتی ہے، کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کر رہی ہے۔ حکومت کی نمائندگی زیادہ ہے لہٰذا وہ اپنی مرضی کے جج لاسکتی ہے۔

اگر یہ ترمیم ہوجاتی ہے تو میرے نزدیک یہ اعلیٰ عدلیہ کو انتظامیہ کے مزید زیر اثر لانے کی کوشش ہوگی جس سے بنیادی جمہوری نظام میں اختیارات کی تقسیم کی نفی ہوگی، لوگوں کی آزادی اور ملک میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ میں نہ صرف عدلیہ کا کردار کمزور ہوگا بلکہ خود عدلیہ بھی کمزور ہوگی لہٰذا 27 ویں ترمیم میں بعض معاملات پر تو مثبت بات ہوسکتی ہے لیکن عدلیہ اور ایگزیکٹو مجسٹریسی کا معاملہ ٹھیک نہیں، یہ جمہوریت کیلئے نیک شگن نہیں ہے۔ جمہوریت میں عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ، تینوں کا آزادانہ کام کرنا بنیادی انسانی حقوق کا ضامن ہے۔

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

(سیاسی تجزیہ کار)

جدید ریاست میں دستور اور آئین کی حیثیت ملک کے نظام کی ترتیب اور اسے فعال بنانے کیلئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ عوام کے جذبات اور امنگوں کی ترجمانی اورریاست کی سمت کا تعین بھی اسی سے ہوتا ہے۔ ریاست میں کام کرنے والے مختلف اداروں، مناصب اور عہدوں کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں کا تعین بھی دستور کرتا ہے۔ یہ جامد نہیں ہوتا، وقت کے ساتھ نئے تقاضوں کے حساب سے اس میں تبدیلی اور ترمیم کی گنجائش ہوتی ہیم لہٰذادستور میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم یہ معاملہ تب منفی رخ اختیار کرتا ہے جب عوام میں یہ رائے پیدا ہو کہ ترمیم قومی مفاد کے بجائے کسی گروہی یا ذاتی مفاد کیلئے کی جا رہی ہے اور اس سے بعض ایسے معاملات جو ابھی غیر قانونی ہیں انہیں قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے بہت سارے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں، منفی رائے جنم لیتی ہے خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں بہت سے دستور آئے ، بہت سی ترامیم ہوئیں جو شخصیات کا نام لے بھی کی گئیں۔

اس تناظر میں جب 27 ویں ترمیم کی بات ہو ر ہی ہے تو ہمیں منفی فضا دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ 17ویں ، 18 ویں، 19 ویں اور 26 ویں ترامیم کے موقع پر ایسی وجوہات سامنے آئیں جن میں بنیادی مقصد ملک کی سمت درست کرنا نہیں تھا بلکہ ایسے اقدامات کو قانونی حیثیت دینا تھی جو شاید ویسے دستور کی روح کے منافی تھے۔ 27 ویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ کی بات ہورہی ہے۔ 18 ویں ترمیم میں وسائل کی تقسیم میں 57 فیصد حصہ صوبوں کو دیا گیا جس کی وجہ سے مرکز کے پاس پیسے نہیں رہتے۔ مرکز نے اہم اقدامات کرنے ہیں جن میں خارجہ پالیسی، دفاع اور وفاقی حکومت چلانا شامل ہیں۔

 ان کیلئے کافی فنڈز درکار ہوتے ہیں۔ وفاق نے صوبوں کو پہلے پیسے دینے ہیں، باقی معاملات بعد میں ہیں لہٰذا صوبوں کو ان کی ضرورت سے زائد یا کافی رقم مل جاتی ہے اس لیے وہ خود پیسہ اکٹھا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور پھر مرکز کو زیادہ قرض لے کر معاملات چلانا پڑتے ہیں جس سے ملکی معیشت تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس ترمیم کے تحت مجسٹریسی کا نظام واپس لایا جا رہا ہے، میرے نزدیک یہ دائروں کا سفر ہے۔ کبھی یہ نوید سنائی جاتی ہے کہ اداروں میں اختیارات کی تقسیم سے بہتری آئے گی، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات الگ الگ کرکے زبردست نظام آجائے گا، اب کہتے ہیں کہ عدالتوں میں بہت بڑی تعداد میں مقدمات زیر التوا ہیں ،ا س لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریسی کا نظام ضروری ہے،ا یسے معاملات سے ابہام پیدا ہوتا ہے۔ یہ بات کی جارہی ہے کہ قومی نصاب ایک ہونا چاہیے اس لیے تعلیم کا معاملہ وفاق کے پاس ہونا چاہیے، بہبود آبادی کا معاملہ بھی وفاق کے سپرد کرنے کی بات ہے یعنی وفاق اور صوبوں میں اختیارات کی تقسیم کو دوبارہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

میرے نزدیک آئینی ترمیم میں بنیادی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ہماری تاریخ ایسی ہے جس میں ویسا ہوتا نہیں جیسا دکھایا جاتا ہے۔ اس لیے ہم پہلے رائے عامہ ہموار کرتے ہیں اور پھر تنقید کرتے ہیں۔ 18 ویں ترمیم ہوئی تو ہم نے کہا کہ سب کچھ پالیا ہے، مرکز اور صوبوں کے درمیان سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات سمیت دیگر معاملات طے ہوگئے ہیں۔ اس وقت بھی یہ کہا جا رہا تھا کہ وسائل کی اس تقسیم سے وفاق بے دست و پا ہوجائے گا اور اب وہ وقت آچکا ہے۔

ہمارا بجٹ 18 ہزار ارب کا صرف اس لیے ہوگیا ہے کہ ہم نے نصف سے زائد ڈیٹ سروسنگ میں دینا ہوتا ہے۔ میرے نزدیک آئینی ترمیم وقتی مفاد کیلئے نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر کی جائے تاکہ اس کے بہتر نتائج نکل سکیں۔ ابھی ترمیم نہیں ہوئی لیکن وکلاء، سیاستدان ودیگر افراد مختلف باتیں کر رہے ہیں اور عوام بھی پریشان ہیں کہ کیا ہوگا ۔ ہمیں آئین میں ترمیم کے طریقہ کار کو بہتر بنانا چاہیے۔ اس پر پارلیمان میں بحث ہو، اسے شق وار دیکھا جائے لیکن اگر ایک گھنٹے کے اندر ہی ترمیم منظور ہو تو اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔

سلمان عابد

(سیاسی تجزیہ کار)

بنیادی طور پر جو بھی حکومت ہوتی ہے اس کے پاس سیاسی ، آئینی اور قانونی اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا آئین سازی کر سکتی ہے، یہ اس کا بنیادی حق ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ ترمیم کے مقاصد کیا ہیں۔ کیا ریاست اور حکومت کے نظام کو مضبوط بنانا ہے یا شخصی حکومتوں یا غیر سیاسی قوتوں کے مفادات کو فائدہ پہنچانا ہے۔ 26ویں ترمیم جس عجلت میں کی گئی تھی اس سے یہ شکوک و شبہات ابھرے کے حکومت کو عدلیہ کے ساتھ جس محاذ آرائی کا سامنا تھا اس کی بنیاد پر عدالتوں کو کمزور کیا گیا۔ آج بھی یہ بحث جاری ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب 26 ویں ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج ہوچکی ہے تو 27 ویں ترمیم لانے کے پیچھے بھی آئینی اور قانونی مقصد کے بجائے سیاسی مفادات دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے ترمیم کا مسودہ چھپایا گیا اور اب جس طرح اراکان اسمبلی سے بغیر بحث کے اسے منظور کرایا جائے گا تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے مفادات ہی ہیں۔ اس وقت تقسیم نہ صرف سیاست میں بلکہ عدلیہ اور ہر جگہ نظر آتی ہے،ا گر اس میںعدلیہ کے حوالے سے ترمیم ہوتی ہے تو حکومت، اپوزیشن اور عدلیہ میں ٹکراؤ پیدا ہوگا۔

بہتر ہوتا کہ حکومت اس پر پارلیمنٹ میں بحث کراتی، اپوزیشن کو بات کا پورا موقع ملتا تو اعتماد پیدا ہوسکتا تھا۔ ایک طرف آرٹیکل 243 ہے جس میں پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں بہتری لائی جار ہی ہے تو دوسری طرف این ایف سی ایوارڈ ہے جس میں تعلیم، صحت اور آبادی کے محکموں کو صوبوں سے لے کر وفاق کو واپس کرنا ہے۔ یہ بحث بھی پرانی ہے کہ 18ویں ترمیم سے مسائل حل نہیں ہوئے ، اس پر ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کافی دیر سے کہہ رہی ہے کہ 18 ویں ترمیم میں تبدیلیوں اور وفاق کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، صوبوں کی خودمختاری کے ساتھ ساتھ وفاق کی اپنی خود مختاری کی اہمیت بھی ہوتی ہے۔ اس پر سب سے زیادہ اعتراض پاکستان پیپلز پارٹی کو ہے جس نے آرٹیکل 243 اورآئینی عدالتوں کے قیام پر تو منظوری دی ہے لیکن 18 ویں ترمیم سے متعلقہ معاملات پر اس کے تحفظات ہیں۔ میرے نزدیک 27ویں ترمیم کے تناظر میں سیاسی تقسیم کا سکرپٹ سیاسی سودے بازی کے لیے لکھا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی چاہے گی اگر اسے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے تو اس کے مقابلے میں کہیں اور سے حصہ مل جائے۔

اس میں آزاد کشمیرمیں حکومت سازی کی دعوت بھی دی جاسکتی ہے۔ ایم کیو اکم نے لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے ترمیم کا جو بل پیش کیا ہے، وہ اس کی بات کر رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی جوڑ توڑ کی بات کر رہے ہیں۔ یہ وہی کھیل ہے جو 26 ویں ترمیم کے وقت بھی تھا لہٰذا 27 ویں ترمیم بھی منظور ہوجائے گی لیکن اس کے نتیجے میں جو آئینی ، قانونی بحران اور سیاسی ٹکراؤ پیدا ہوگا وہ پاکستان کے سیاسی استحکام کیلئے چیلنج ہوگا جو آسانی سے حل نہیں ہوگا۔

آئینی عدالتوں کے قیام میں جب عدالتی نظام کو اعتماد میں نہیں لیا جائے تو مسائل پیدا ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کو تحفظ دینے کیلئے ترامیم کی جا رہی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں بھی اپوزیشن کے کردار کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کی بڑی اور چھوٹی جماعتیں تو اس کی مخالفت کر رہی ہیں لیکن حکومت اور اس کے اتحادیوں کے پاس عددی تعداد موجود ہے جس کی بناء پر ترمیم تو منظور ہوجائے گی تاہم یہ اچھا ہوگا کہ سیاسی اتفاق رائے پیدا کرکے ترمیم کی جائے ورنہ مزید ٹکراؤ ہوگا۔ جب آئین میں تبدیلیاں حکومت اور افراد کے مفادات کے تابع ہو کر چلتی ہیں تو اس سے آئین اور قانون کی شکل بدل جاتی ہے۔ ان تبدیلیوں سے حکومت اور ریاست کے معاملات تو بدلتے ہیں لیکن عوام کی زندگی میں بہتری نہیں آتی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اختیارات کی تقسیم ایف سی ایوارڈ ویں ترمیم میں ویں ترمیم کے مجسٹریسی کا کے حوالے سے میرے نزدیک جا رہی ہے ا بادی کے ا جائے گا ترمیم کی صوبوں کو ہوتی ہے کرنے کی ہے لیکن کے ساتھ میں بہت ہوتا ہے جاتی ہے وفاق کے پیدا ہو رہی ہیں کا نظام ہیں اور جاتا ہے کیا گیا بات ہو کی بات ہے اور اس لیے ہی ہیں رہا ہے کے پاس کا حصہ اور اس کے بعد

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا