’پیارے مولانا ‘اور خواجہ سعد رفیق
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
خواجہ سعد رفیق نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے جو اگر کچھ لوگوں کی سمجھ میں آ گئی توامکان ہے کہ اس ملک کا نظریاتی لینڈ اسکیپ ہی تبدیل ہو جائے گا۔ خواجہ صاحب نے کیا کہا ہے، یہ سمجھنے کے لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ کچھ ذکر مولانا مودودیؒ کا ہو جائے اور ان کی رعایت سے مخدومی الطاف حسن قریشی صاحب کا۔مخدومی الطاف حسن قریشی کو دنیا صحافی کی حیثیت سے جانتی ہے۔ وہ یقیناً صحافی ہیں لیکن ان کی اصل شناخت اردو ڈائجسٹ ہے جو انھوں نے اپنے برادرِ بزرگ جناب اعجاز حسن قریشی مرحوم کے ساتھ مل کر ساٹھ کی دہائی میں شایع کیا تھا۔ اردو ڈائجسٹ کے ذکر پر غالب کی یاد آتی ہے ؎
میں چمن میں کیا گیا، گویا دبستاں کھل گیا
بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
یہ پرچہ محض ایک ڈائجسٹ نہیں تھا، عشق کی داستان ہے جس کا تعلق صرف ہماری زبان یعنی اردو اور صحافت سے نہیں بلکہ اس ملک کے نظریاتی منظرنامے سے بھی ہے۔
سرد جنگ نے اس ملک پر کئی کرم فرمائیاں کی ہیں۔ ان میں ایک کا تعلق سرمایہ دارانہ اندازِ فکر سے تھا اور دوسری کا اشتراکیت سے۔ اس زمانے میں ہمارے ملک پر ان دو نظریاتی دھاروں کے درمیان گھمسان کا ایسا رن پڑا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ یوں گویا پاکستان، اس کے مقاصد اور نظریات طوطی کی آواز بن گئے ،نقار خانے میں جس کی کوئی نہیں سنتا۔
اس طوفانِ ہاؤہو میں جناب اعجاز حسن قریشی کا اردو ڈائجسٹ اور مخدومی الطاف حسن قریشی کی جرات مندانہ صحافت تھی جس نے ایک غیر متعلق نظریاتی آویزش میں کلمۂ حق بلند کیا۔ یوں قومی صحافت ایک نیا موڑ مڑ گئی۔ دائیں اور بائیں بازو کی آویزش میں تیسرے مکتبۂ فکر کی آواز کو اعتبار ملا۔ استادِ گرامی پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود کہا کرتے ہیں کہ الطاف حسن قریشی اگر اس زمانے میں خم ٹھونک کر کھڑے نہ ہو گئے ہوتے تو حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور پاکستان کا نام لینے والوں کے لیے یہاں قدم رکھنے کی کوئی جگہ نہ رہتی۔
یہ پس منظر الطاف حسن قریشی کے نظریاتی رجحان سے ہمیں آگاہ کرتا ہے۔ یوں معلوم ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے نظریاتی لینڈ اسکیپ پر قریشی صاحب کے رشتے کس مکتبِ فکر اور شخصیات کے ساتھ رہے ہوں گے۔
اردو ڈائجسٹ اور الطاف حسن قریشی صاحب کا زمانہ دراصل مولانا مودودیؒ کا زمانہ تھا۔ اس دور کے سب سے بڑے قانون دان خالد ایم اسحق ایڈووکیٹ نے میرے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارے زمانے میں مولانا مودودیؒ علم کی بہت بڑی شمع تھے اور ہمارے جیسے پروانے علم کی اس روشنی کے گرد منڈلا رہے تھے۔یہی معاملہ الطاف حسن قریشی صاحب کا بھی تھا۔ قریشی صاحب نے لکھا ہے کہ جب مولانا مودودیؒ کو سزائے موت سنائی گئی تو وہ سخت صدمے کی حالت میں کسی اجاڑ بیابان میں نکل گئے اور گھنٹوں روتے رہے پھر اسی عالم میں ان پر ایک نظم وارد ہوئی جو انھوں نے مولانا مودودیؒ کے ساتھ اپنے تاریخی انٹرویو کے ابتدائیے میں شامل کی ہے۔
قریشی صاحب نے اس انٹرویو کے علاوہ ان کے ساتھ اپنا ایک اور انٹرویو، ان کے انتقال پر اپنا ایک طویل اور نہایت اہم مضمون بہ عنوان 'پیارے مولانا' ، مخدومی مجیب الرحمن شامی اور جناب آباد شاہ پوری کے مضامین کے ساتھ اسی عنوان سے کتابی صورت میں شایع کر دیے ہیں جسے علامہ عبد الستار عاصم کے ادارے قلم فانڈیشن نے روایتی اہتمام سے شایع کیا ہے۔
مولانا مودودیؒ کیا تھے، ان کی فکر اور دعوت کیا تھی اور وہ کیا نہیں تھے، ان سب سوالوں کے جواب اس کتاب میں دستیاب ہیں۔ اس مختصر کتاب کے مطالعے کے بغیر مولانا مودودیؒ کو سمجھنا ممکن نہیں۔اسی اہم اور تاریخی کتاب کی تقریب اجرا 5 ؍اے ذیلدار پارک میں ہوئی جسے اب سید مودودیؒ میموریل کا نام دیا گیا ہے۔ اس تقریب کی صدارت امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کی۔ اس موقع پر مجیب الرحمن شامی، خواجہ سعد رفیق، امیرالعظیم، محمد حنیف بندہانی ایڈوکیٹ اور سید مودودی ؒمیموریل کے سیکریٹری جنرل سید وقاص جعفری نے خطاب کیا۔
خواجہ سعد رفیق نے اس موقع پر جو تقریر کی، وہ بے پناہ وائرل ہوئی ہے۔یہ تقریر اتنی مقبول کیوں ہوئی، اس کا ایک پس منظر ہے۔ خواجہ صاحب نے مولانا مودودی ؒکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ تحریکِ اسلامی سے وابستہ افراد صرف وہ نہیں جو جماعتِ اسلامی کے نظم میں شامل ہیں بلکہ وہ بھی ہیں جنھوں نے سید مودودیؒ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا اور زندگی کے کسی مرحلے میں کسی نہ کسی حیثیت میں ان کے قافلے میں شریک ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے رفیق رہے ہیں اور اس حیثیت میں وہ خود کو آج بھی تحریکِ اسلامی کا حصہ سمجھتے ہیں اور اس مشن کو آگے بڑھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔بس، اپروچ اور حکمتِ عملی کا فرق ہے ،اس لیے ہمیں بھی تحریکِ اسلامی کا حصہ سمجھا جائے۔
خواجہ سعد رفیق ایک ٹھیٹھ سیاسی کارکن ہیں جو زمانے کے سرد و گرم سے گزر کر پختہ کار ہو چکے ہیں اور خود اپنے الفاظ میں لوہے کے وہ چنے بن چکے ہیں جنھیں اگلا جا سکتا ہے اور نہ نگلا جا سکتا ہے۔ خواجہ صاحب نے اس مزاج کے سیاسی کارکنوں کی یہ تعریف بھی دراصل سید مودودیؒ ہی سے مستعار لی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سید مودودیؒ اور تحریکِ اسلامی سے اپنے تعلق کی جو بات انھوں نے کہی ہے، وہ ان کی نہایت سوچی سمجھی رائے ہے اور ان کے ما فی الضمیر کی نمایندگی کرتی ہے۔
انھوں نے یہ کہہ کر جو بات کہے بغیر کہنے کی کوشش کی ،یہ تھی کہ اپنے ہمدردوں کو دور دھکیل کر تحریکِ اسلامی کو کمزور کرنے کے بہ جائے اسے زیادہ وسعت کے ساتھ دیکھا اور سمجھا جائے۔ تحریکِ اسلامی ہو یا پاکستان، دونوں کا مفاد اسی میں ہے۔جماعتِ اسلامی گزشتہ کچھ عرصے سے جس سیاسی تنہائی کا شکار ہے اور اس کی عوامی طاقت میں کمی واقع ہو رہی ہے، یہ اس کے لیے کڑا امتحان ہے۔ جماعتِ اسلامی اس آزمائش میں سرخرو ہو سکتی ہے اگر خواجہ سعد رفیق کی تجویز پر توجہ دے اور اپنی حکمتِ عملی ازسرِ نو مرتب کرے۔
بزرگوں کا دم قدم باعثِ برکت ہوتا ہے۔ یہ بابرکت مشورہ ’پیارے مولانا ‘کی اشاعت کے موقع پر سامنے آیا ہے جو پاکستان کا نظریاتی منظرنامہ بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس پر مخدومی الطاف حسن قریشی مبارک باد کے مستحق ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مخدومی الطاف حسن قریشی خواجہ سعد رفیق مولانا مودودی اردو ڈائجسٹ انھوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی