Express News:
2026-07-24@06:41:20 GMT

’پیارے مولانا ‘اور خواجہ سعد رفیق

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

خواجہ سعد رفیق نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے جو اگر کچھ لوگوں کی سمجھ میں آ گئی توامکان ہے کہ اس ملک کا نظریاتی لینڈ اسکیپ ہی تبدیل ہو جائے گا۔ خواجہ صاحب نے کیا کہا ہے، یہ سمجھنے کے لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ کچھ ذکر مولانا مودودیؒ کا ہو جائے اور ان کی رعایت سے مخدومی الطاف حسن قریشی صاحب کا۔مخدومی الطاف حسن قریشی کو دنیا صحافی کی حیثیت سے جانتی ہے۔ وہ یقیناً صحافی ہیں لیکن ان کی اصل شناخت اردو ڈائجسٹ ہے جو انھوں نے اپنے برادرِ بزرگ جناب اعجاز حسن قریشی مرحوم کے ساتھ مل کر ساٹھ کی دہائی میں شایع کیا تھا۔ اردو ڈائجسٹ کے ذکر پر غالب کی یاد آتی ہے  ؎

میں چمن میں کیا گیا، گویا دبستاں کھل گیا

بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں

یہ پرچہ محض ایک ڈائجسٹ نہیں تھا، عشق کی داستان ہے جس کا تعلق صرف ہماری زبان یعنی اردو اور صحافت سے نہیں بلکہ اس ملک کے نظریاتی منظرنامے سے بھی ہے۔

سرد جنگ نے اس ملک پر کئی کرم فرمائیاں کی ہیں۔ ان میں ایک کا تعلق سرمایہ دارانہ اندازِ فکر سے تھا اور دوسری کا اشتراکیت سے۔ اس زمانے میں ہمارے ملک پر ان دو نظریاتی دھاروں کے درمیان گھمسان کا ایسا رن پڑا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ یوں گویا پاکستان، اس کے مقاصد اور نظریات طوطی کی آواز بن گئے ،نقار خانے میں جس کی کوئی نہیں سنتا۔

اس طوفانِ ہاؤہو میں جناب اعجاز حسن قریشی کا اردو ڈائجسٹ اور مخدومی الطاف حسن قریشی کی جرات مندانہ صحافت تھی جس نے ایک غیر متعلق نظریاتی آویزش میں کلمۂ حق بلند کیا۔ یوں قومی صحافت ایک نیا موڑ مڑ گئی۔ دائیں اور بائیں بازو کی آویزش میں تیسرے مکتبۂ فکر کی آواز کو اعتبار ملا۔ استادِ گرامی پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود کہا کرتے ہیں کہ الطاف حسن قریشی اگر اس زمانے میں خم ٹھونک کر کھڑے نہ ہو گئے ہوتے تو حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور پاکستان کا نام لینے والوں کے لیے یہاں قدم رکھنے کی کوئی جگہ نہ رہتی۔

یہ پس منظر الطاف حسن قریشی کے نظریاتی رجحان سے ہمیں آگاہ کرتا ہے۔ یوں معلوم ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے نظریاتی لینڈ اسکیپ پر قریشی صاحب کے رشتے کس مکتبِ فکر اور شخصیات کے ساتھ رہے ہوں گے۔

اردو ڈائجسٹ اور الطاف حسن قریشی صاحب کا زمانہ دراصل مولانا مودودیؒ کا زمانہ تھا۔ اس دور کے سب سے بڑے قانون دان خالد ایم اسحق ایڈووکیٹ نے میرے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارے زمانے میں مولانا مودودیؒ علم کی بہت بڑی شمع تھے اور ہمارے جیسے پروانے علم کی اس روشنی کے گرد منڈلا رہے تھے۔یہی معاملہ الطاف حسن قریشی صاحب کا بھی تھا۔ قریشی صاحب نے لکھا ہے کہ جب مولانا مودودیؒ کو سزائے موت سنائی گئی تو وہ سخت صدمے کی حالت میں کسی اجاڑ بیابان میں نکل گئے اور گھنٹوں روتے رہے پھر اسی عالم میں ان پر ایک نظم وارد ہوئی جو انھوں نے مولانا مودودیؒ کے ساتھ اپنے تاریخی انٹرویو کے ابتدائیے میں شامل کی ہے۔

قریشی صاحب نے اس انٹرویو کے علاوہ ان کے ساتھ اپنا ایک اور انٹرویو، ان کے انتقال پر اپنا ایک طویل اور نہایت اہم مضمون بہ عنوان 'پیارے مولانا' ، مخدومی مجیب الرحمن شامی اور جناب آباد شاہ پوری کے مضامین کے ساتھ اسی عنوان سے کتابی صورت میں شایع کر دیے ہیں جسے علامہ عبد الستار عاصم کے ادارے قلم فانڈیشن نے روایتی اہتمام سے شایع کیا ہے۔

مولانا مودودیؒ کیا تھے، ان کی فکر اور دعوت کیا تھی اور وہ کیا نہیں تھے، ان سب سوالوں کے جواب اس کتاب میں دستیاب ہیں۔ اس مختصر کتاب کے مطالعے کے بغیر مولانا مودودیؒ کو سمجھنا ممکن نہیں۔اسی اہم اور تاریخی کتاب کی تقریب اجرا 5 ؍اے ذیلدار پارک میں ہوئی جسے اب سید مودودیؒ میموریل کا نام دیا گیا ہے۔ اس تقریب کی صدارت امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کی۔ اس موقع پر مجیب الرحمن شامی، خواجہ سعد رفیق، امیرالعظیم، محمد حنیف بندہانی ایڈوکیٹ اور سید مودودی ؒمیموریل کے سیکریٹری جنرل سید وقاص جعفری نے خطاب کیا۔

خواجہ سعد رفیق نے اس موقع پر جو تقریر کی، وہ بے پناہ وائرل ہوئی ہے۔یہ تقریر اتنی مقبول کیوں ہوئی، اس کا ایک پس منظر ہے۔ خواجہ صاحب نے مولانا مودودی ؒکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ تحریکِ اسلامی سے وابستہ افراد صرف وہ نہیں جو جماعتِ اسلامی کے نظم میں شامل ہیں بلکہ وہ بھی ہیں جنھوں نے سید مودودیؒ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا اور زندگی کے کسی مرحلے میں کسی نہ کسی حیثیت میں ان کے قافلے میں شریک ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے رفیق رہے ہیں اور اس حیثیت میں وہ خود کو آج بھی تحریکِ اسلامی کا حصہ سمجھتے ہیں اور اس مشن کو آگے بڑھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔بس، اپروچ اور حکمتِ عملی کا فرق ہے ،اس لیے ہمیں بھی تحریکِ اسلامی کا حصہ سمجھا جائے۔

خواجہ سعد رفیق ایک ٹھیٹھ سیاسی کارکن ہیں جو زمانے کے سرد و گرم سے گزر کر پختہ کار ہو چکے ہیں اور خود اپنے الفاظ میں لوہے کے وہ چنے بن چکے ہیں جنھیں اگلا جا سکتا ہے اور نہ نگلا جا سکتا ہے۔ خواجہ صاحب نے اس مزاج کے سیاسی کارکنوں کی یہ تعریف بھی دراصل سید مودودیؒ ہی سے مستعار لی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سید مودودیؒ اور تحریکِ اسلامی سے اپنے تعلق کی جو بات انھوں نے کہی ہے، وہ ان کی نہایت سوچی سمجھی رائے ہے اور ان کے ما فی الضمیر کی نمایندگی کرتی ہے۔

انھوں نے یہ کہہ کر جو بات کہے بغیر کہنے کی کوشش کی ،یہ تھی کہ اپنے ہمدردوں کو دور دھکیل کر تحریکِ اسلامی کو کمزور کرنے کے بہ جائے اسے زیادہ وسعت کے ساتھ دیکھا اور سمجھا جائے۔ تحریکِ اسلامی ہو یا پاکستان، دونوں کا مفاد اسی میں ہے۔جماعتِ اسلامی گزشتہ کچھ عرصے سے جس سیاسی تنہائی کا شکار ہے اور اس کی عوامی طاقت میں کمی واقع ہو رہی ہے، یہ اس کے لیے کڑا امتحان ہے۔ جماعتِ اسلامی اس آزمائش میں سرخرو ہو سکتی ہے اگر خواجہ سعد رفیق کی تجویز پر توجہ دے اور اپنی حکمتِ عملی ازسرِ نو مرتب کرے۔

بزرگوں کا دم قدم باعثِ برکت ہوتا ہے۔ یہ بابرکت مشورہ ’پیارے مولانا ‘کی اشاعت کے موقع پر سامنے آیا ہے جو پاکستان کا نظریاتی منظرنامہ بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس پر مخدومی الطاف حسن قریشی مبارک باد کے مستحق ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مخدومی الطاف حسن قریشی خواجہ سعد رفیق مولانا مودودی اردو ڈائجسٹ انھوں نے کے ساتھ

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی