Jasarat News:
2026-06-03@04:59:16 GMT

سلیب کا کھیل: بجلی کے بلوں سے پنشن کی کٹوتی تک

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں ریاستی پالیسیوں کا سب سے بڑا تضاد ’’سلیب سسٹم‘‘ ہے۔ یہ ایسا جال ہے جس میں عام آدمی اور سرکاری ملازم دونوں پھنستے ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتے۔ سلیب کے نام پر کبھی بجلی کے بلوں میں عوام سے اضافی پیسے نکلوائے جاتے ہیں اور کبھی ریٹائرڈ ملازمین کی زندگی بھر کی کمائی پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ یوں یہ ایک ایسا دو دھاری ہتھیار ہے جو ہر طرف سے غریب اور ملازم پیشہ طبقے کو زخمی کرتا ہے۔
بجلی کے نظام میں 200 یونٹ کی ایک مصنوعی لکیر کھینچی گئی ہے۔ عوام کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اس حد تک رعایتی نرخ ملیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی کسی صارف کا بل 201 یونٹ پر پہنچتا ہے تو رعایت کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔ پورے یونٹس مہنگے ہو جاتے ہیں اور ایک یونٹ کا فرق ہزاروں روپے کے اضافے میں بدل جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سلیب ’’ریلیف‘‘ کے بجائے ’’سزا‘‘ بن جاتا ہے۔
غریب مزدور جس کا گھر پہلے ہی مہنگائی کی آگ میں جل رہا ہے، ایک یونٹ زیادہ خرچ کرنے کی پاداش میں پانچ چھ ہزار روپے اضافی ادا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کسان جس کی فصلیں ڈیزل اور بجلی کے اخراجات سے تباہ ہو چکی ہیں، وہ بھی اس پھندے میں پھنس جاتا ہے۔ کلرک، استاد اور ریٹائرڈ بزرگ شہری سب کے سب اس سسٹم کے ہاتھوں لٹتے ہیں۔ بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو نہ عوام کی مجبوری کا احساس ہے نہ انصاف کی پرواہ۔ ان کے نزدیک یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل ہے، لیکن حقیقت میں یہ لاکھوں گھروں کا چولہا بجھا دیتا ہے۔
یہ سلیب صرف بجلی کے بلوں تک محدود نہیں بلکہ سرکاری ملازمین کی پنشن اور ریٹائرمنٹ بینیفٹس پر بھی اسی کا اطلاق ہوتا ہے۔ جب کوئی ملازم 3 دہائیاں خدمت کے بعد ریٹائر ہوتا ہے تو وہ اپنے بڑھاپے کی آس اُمید کے ساتھ گریجویٹی اور لیواِن کیشمنٹ کا منتظر ہوتا ہے۔ مگر جب حساب لگایا جاتا ہے تو سلیب کا ہتھیار اس کی جمع پونجی کو کاٹ ڈالتا ہے۔ مختلف سلیب لاگو کر کے اس کی گریجویٹی کم کر دی جاتی ہے اور بعض صورتوں میں لیواِن کیشمنٹ بالکل ختم ہو جاتی ہے۔
یہ منظر کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ ایک شخص جس نے 30سال تک محنت، مشقت اور قربانی سے اپنے ادارے کی خدمت کی ہو، اس کے بڑھاپے کا سہارا اس طرح چھین لیا جائے تو یہ سراسر ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ ریٹائرڈ ملازم کے خواب بکھر جاتے ہیں، اس کی آنکھوں میں مایوسی اُتر آتی ہے اور وہ خود کو ریاست کے رحم و کرم پر تنہا پاتا ہے۔
یہاں اصل سوال کھڑا ہوتا ہے کہ آخر ایک ہی اصول دو جگہ دو مختلف شکلیں کیوں اختیار کرتا ہے؟ بجلی کے بل میں سلیب عوام پر بھاری بوجھ ڈال دیتا ہے اور پنشن کے نظام میں یہی سلیب ملازمین کے حقوق نگل لیتا ہے۔ کہیں رعایت ختم کر کے پورا بل مہنگا کر دیا جاتا ہے اور کہیں محنت کی کمائی کو نصف یا ایک تہائی تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں پالیسیاں انصاف کے بجائے مفادات کے تابع ہیں۔

پالیسی ساز ادارے، وزارتِ خزانہ اور بجلی کی ریگولیٹری اتھارٹیز سب کچھ جانتے ہیں۔ وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ نظام کتنا غیرمنصفانہ ہے۔ لیکن ان کی خاموشی معنی خیز ہے۔ کیونکہ ان کے لیے تو کبھی سلیب کا اطلاق ہوتا ہی نہیں۔ وزراء اور مشیروں کی مراعات میں اضافہ کیا جاتا ہے، اراکین اسمبلی کی تنخواہیں کئی گنا بڑھائی جاتی ہیں، مگر عام ملازم اور عوام پر سلیب کی تلوار چلائی جاتی ہے۔
میڈیا بھی اس مسئلے کو نظرانداز کرتا ہے۔ ٹی وی اسکرینوں پر دن رات سیاسی دنگل دکھائے جاتے ہیں، مگر کوئی اینکر یہ سوال نہیں اُٹھاتا کہ ایک یونٹ کے فرق پر پورے بل کی رعایت کیوں ختم کر دی جاتی ہے؟ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی لیواِن کیشمنٹ کیوں کاٹ دی جاتی ہے؟ عوام کو جان بوجھ کر ان حقیقی مسائل سے غافل رکھا جا رہا ہے تاکہ ان کا دھیان صرف وقتی شور شرابے میں الجھا رہے۔
یہ نظام اکثریت کے گلے پر ہاتھ رکھ کر اقلیت کی تجوریاں بھرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ پاکستان کی آبادی کی اکثریت یا تو عام عوام ہیں یا نچلے گریڈ کے سرکاری ملازمین۔ لیکن پالیسی سازی میں ان کا ذکر صرف بوجھ کے طور پر ہوتا ہے، حق دار کے طور پر نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بجلی کے بل عوام کے لیے عذاب بن گئے ہیں اور پنشن کی کٹوتیاں ملازمین کے بڑھاپے کو بے سہارا کر دیتی ہیں۔
چند عملی مثالیں اس تضاد کو ننگا کر دیتی ہیں۔ ایک اسکول ٹیچر کا بل اگر 201 یونٹ ہو جائے تو اسے پچھلے مہینے کے مقابلے میں 5 ہزار سے زائد ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم جس کی گریجوٹی پنشن 10لاکھ روپے بنتی تھی، سلیب کے نفاذ کے بعد اسے صرف 6 لاکھ دیے گئے۔ یہ مثالیں محض کہانیاں نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہیں جو روزانہ ہزاروں خاندانوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

ایسی پالیسیوں کے نتیجے میں عوام کا ریاست پر اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لوگ ٹیکس دینے سے کترانے لگتے ہیں، بجلی کے بل چکانے کے بجائے کنڈے ڈالنے لگتے ہیں، اور سسٹم سے بغاوت کرنے لگتے ہیں۔ یہ ریاست کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہے کیونکہ جب شہریوں کا اعتماد اُٹھ جائے تو نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔
مزید برآں جب تنخواہیں اور پنشنز کم ہوتی ہیں اور مہنگائی کا بوجھ بڑھتا ہے تو لوگ کرپشن کی طرف دھکیل دیے جاتے ہیں۔ نچلے درجے کے ملازمین رشوت لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں تاکہ گھر کا خرچ پورا کر سکیں۔ یوں سلیب سسٹم صرف ناانصافی ہی نہیں بلکہ کرپشن کا براہِ راست محرک بھی بن جاتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ان تضادات کو ختم کیا جائے۔ بجلی کے بلوں میں ایک منصفانہ نظام رائج کیا جانا چاہیے۔ اگر 200 یونٹ تک رعایت دی جاتی ہے تو 201 یونٹ پر پورا بل مہنگا کرنے کے بجائے صرف وہی ایک یونٹ مہنگا ہونا چاہیے۔ اس سے عوام پر بلاجواز بوجھ نہیں پڑے گا اور انصاف کا تقاضا بھی پورا ہوگا۔
اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن گریجویٹی اور لیوان کیشمنٹ پر سلیب کا جبر ختم ہونا چاہیے۔ یہ ان کا بنیادی حق ہے جو انہوں نے اپنی محنت کے ذریعے کمایا ہے۔ اس حق پر کسی قسم کی کٹوتی یا تضاد کسی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔

پارلیمنٹ کو فوری طور پر قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ بجلی کے سلیب اور پنشن کے سلیب کا خاتمہ کر کے ایک شفاف، منصفانہ اور یکساں نظام رائج کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ ناانصافیاں مستقبل میں بغاوت اور سماجی انتشار کی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں عوام کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔ وہاں بجلی کے نرخ یکساں اور شفاف ہیں اور ریٹائرڈ ملازمین کو بڑھاپے میں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اگر یہی طرزِ عمل اپنایا جائے تو نہ صرف عوامی اعتماد بحال ہوگا بلکہ معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام اور سرکاری ملازمین اتنے اندھے بہرے بنا دیے گئے ہیں کہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش رہیں گے؟ یا وہ متحد ہو کر اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کریں گے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر باشعور شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے۔
سلیب کا یہ کھیل عوام اور ملازمین دونوں کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس تضاد کو توڑ دیا جائے۔ بجلی کے بلوں سے لے کر پنشن کی کٹوتی تک، ہر جگہ انصاف قائم کیا جائے۔ کیونکہ جب اکثریت کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں تو ریاستیں اپنی منزل کھو دیتی ہیں۔

رانا محمد اقرار گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ریٹائرڈ ملازمین ریٹائرڈ ملازم سرکاری ملازم بجلی کے بلوں ملازمین کی دی جاتی ہے بجلی کے بل کے بجائے ایک یونٹ جاتے ہیں اور پنشن جائے تو ہیں اور جاتا ہے ہوتا ہے سلیب کا ہے کہ ا رہا ہے بھی اس ہے اور

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان