27ویں آئینی ترمیم، پیپلز پارٹی نے این ایف سی شیئر میں کٹوتی مسترد کردی، آرٹیکل 243 میں ترامیم کی مشروط حمایت
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
بلاول ہاؤس میں پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ (سی ای سی) کے اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کی مجوزہ آئینی ترامیم پر بات چیت جمعہ کو بھی جاری رہے گی، لیکن پیپلز پارٹی صوبوں کے مالیاتی حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کسی بھی تبدیلی کے خلاف ’سرخ لکیر‘ کھینچ دی، تاہم وفاق کے زیرِ انتظام مسلح افواج سے متعلق آرٹیکل 243 میں محدود ترامیم کی مشروط حمایت کا عندیہ دیا۔ رپورٹ کے مطابق رات گئے بلاول ہاؤس میں پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ (سی ای سی) کے اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کی مجوزہ آئینی ترامیم پر بات چیت جمعہ کو بھی جاری رہے گی، لیکن پیپلز پارٹی صوبوں کے مالیاتی حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی صوبوں کے حصے کو آئینی تحفظ دینے کی تجویز مسترد کرتی ہے، تاہم یہ بھی بتایا کہ سی ای سی نے آرٹیکل 243 میں مخصوص ترامیم کی حمایت کی اجازت دی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق حکومت نے چیئرمین جوائنٹ چیفس کو نیا عہدہ دینے، اسٹریٹجک کمانڈ کے لیے نیا منصب بنانے اور فیلڈ مارشل کے عہدے کی تخلیق کی تجویز دی ہے، سی ای سی نے مجھے صرف اسی ترمیم کی حمایت کی اجازت دی ہے۔ جہاں تک آئینی عدالت کے قیام کا تعلق ہے، پیپلز پارٹی نے اس پر غیر حتمی مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ حتمی فیصلے سے قبل مزید اندرونی مشاورت درکار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی صوبوں کے سی ای سی کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔