ضیاءالحسن لنجار ایڈووکیٹ ممبر سندھ بار کونسل منتخب ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
سٹی42: سندھ کے وزیر قانون، داخلہ و پارلیمانی امور ضیاءالحسن لنجار ایڈووکیٹ ممبر سندھ بار کونسل منتخب ہوگئے.
ضیاءالحسن لنجار نواب شاہ سے ممبر سندھ بار کونسل منتخب ہوئے ہیں.
وزیر قانون داخلہ و پارلیمانی امور ضیاءالحسن لنجار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے.
وہ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ بار کے نائب صدر کے عہدے پر فرائض انجام دے چکے ہیں.
انتخابات میں وکلاء برادری نے ضیاءالحسن لنجار پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا.
بھارتی نژاد دنیا کی معروف کمپنی کو اربوں کا چونا لگا کر فرار
وکلا نے ان کی خدمت اور قانونی شعبے میں کردار کو سراہا.
ضیاءالحسن لنجار کی کامیابی پر وکلاء برادری اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر قانون ضیاءالحسن لنجار نے کامیابی کو وکلاء برادری کے اعتماد کا مظہر قرار دیا۔
ضیاءالحسن لنجار نے کہا ہے کہ وہ وکلاء کے مسائل کے حل اور عدالتی نظام کی بہتری کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ عدلیہ کے وقار اور آئین کی بالادستی کے لیے ہمیشہ کوشش جاری رہے گی۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان فیصلہ کن ٹی ٹونٹی میچ آج ہوگا
کامیابی کے بعد ضیاءالحسن لنجار نے ساتھی وکلاء اور دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔وکلاء رہنماؤں نے کہا ہے کہ ضیاءالحسن لنجار کی کامیابی وکلاء کی یکجہتی اور اعتماد کی علامت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ضیاءالحسن لنجار
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔