data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

-1تعارف:
بلوچستان پاکستان کا وہ خطہ ہے جو قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود انسانی ترقی کے اشاریوں میں سب سے پسماندہ ہے۔ صوبے کے پہاڑوں کے نیچے چھپے کوئلے، تانبے، سونے اور گیس کے ذخائر پاکستان کی صنعتی و تجارتی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان وسائل کے دوہنے میں سب سے زیادہ حصہ کوئلے کی کان کنی کا ہے، جس نے ہزاروں مزدوروں کو روزگار فراہم کیا ہے۔ تاہم، یہی شعبہ مزدوروں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک اور غیر منصفانہ بھی ہے۔ بلوچستان کے کوئلہ کان کن نہ صرف غربت، بیماری اور سماجی محرومی کا شکار ہیں بلکہ ریاستی و نجی اداروں کی مجرمانہ غفلت کے باعث ان کی زندگیاں ہر لمحہ خطرے میں رہتی ہیں۔

بلوچستان کی کوئلہ کان کنی کا نظام روایتی، غیر منظم اور غیر انسانی اصولوں پر قائم ہے۔ کان کن عموماً ایسے افراد ہوتے ہیں جو تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم پس ماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی اجرت معمولی ہے، مگر ان کا کام جسمانی طور پر انتہا درجے کا مشکل اور خطرناک ہے۔ ان مزدوروں کو نہ تو مستقل ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سماجی تحفظ کی ضمانت۔ اکثر اوقات کانوں میں کام کرنے والے مزدور ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں جو انہیں حفاظتی سامان دینے کے بجائے پیداوار بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ نتیجتاً کوئلے کے دھوئیں، زہریلی گیسوں اور زمین دھنسنے کے حادثات روزمرہ کے معمول میں شامل ہو چکے ہیں۔
یہ تحقیق اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ بلوچستان میں کان کنوں کے استحصال کے معاشی، سماجی اور سیاسی عوامل کیا ہیں، اور ریاستی ادارے اس استحصال کو کم کرنے میں کس حد تک ناکام رہے ہیں۔ اس مطالعے میں کوئلہ کان کنی کے تاریخی پس منظر، مزدوروں کی موجودہ حالت، حکومتی پالیسیوں، حادثات کے تجزیے اور مزدور یونینز کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحقیق میں اس امر پر بھی بحث کی گئی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فقدان اور ناقص حفاظتی انتظامات نے انسانی جانوں کو کس طرح کمزور معیشت کے ایندھن میں بدل دیا ہے۔
یہ مضمون تحقیقی اور تجزیاتی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے، جس میں سرکاری اعداد و شمار، انسانی حقوق کی رپورٹس اور ذرائع ابلاغ کی معتبر دستاویزات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ تحقیق کا مقصد صرف استحصال کی نشاندہی نہیں بلکہ ان ممکنہ پالیسی اصلاحات کی نشاندہی بھی ہے جن سے کان کنوں کی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ چونکہ بلوچستان کی کان کنی ملک کی توانائی کا اہم ذریعہ ہے، لہٰذا اس کے انسانی پہلو کو نظر انداز کرنا نہ صرف سماجی ناانصافی ہے بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی خطرناک ہے۔

-2 تاریخی پس منظر:
بلوچستان میں کوئلے کی کان کنی کا آغاز انیسویں صدی کے آخر میں برطانوی دورِ حکومت میں ہوا، جب انگریز حکام نے ہرنائی، مچ اور دکی کے علاقوں میں کوئلے کے ذخائر دریافت کیے۔ برطانوی سامراج نے اس خطے کے قدرتی وسائل کو اپنی ریلوے اور صنعتی ضروریات کے لیے استعمال کیا، مگر مقامی آبادی کو اس عمل سے کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ کان کنی کے ابتدائی نظام میں مزدوروں کو نہ حفاظتی انتظامات میسر تھے، نہ اجرت کا باقاعدہ ڈھانچہ موجود تھا۔ یہ استحصال نوآبادیاتی دور میں شروع ہوا اور بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی جاری رہا۔
قیامِ پاکستان کے بعد، حکومتِ بلوچستان نے کوئلے کی کانوں کو منظم کرنے کی کوشش کی، مگر عملی سطح پر یہ نظام سرمایہ دارانہ ٹھیکیداری ڈھانچے میں جکڑا رہا۔ بیشتر کانیں نجی لیز پر مقامی یا غیر مقامی سرمایہ داروں کے حوالے کی گئیں۔ ان ٹھیکیداروں نے برطانوی نظامِ مزدوری کو برقرار رکھا جہاں محنت کش صرف ایک ’’پیداواری ذریعہ‘‘ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ 50 کی دہائی میں محکمہ مائنز اینڈ منرلز قائم ہوا، مگر اس کا کردار کاغذی حد تک محدود رہا۔

70 اور اسی کی دہائی میں کان کنی بلوچستان کی معیشت میں اہم کے دھماکوں سے ہلاکتیں عام ہیں۔ یہ استحصال اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب زخمی یا ہلاک مزدوروں کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔
(جاری )

عبدالحکیم مجاہد گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کان کنی کی کان کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ