بلوچستان کے عوام کے حقوق کی حفاظت اولین ترجیح ہے، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ تشدد یا طاقت نہیں بلکہ پارلیمنٹ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں بلوچستان کے عوام کے حقوق کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ نوجوانوں کو تشدد اور دہشتگردی سے محفوظ رکھتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے۔ بولان میڈیکل کالج میں جہاں پہلے 700 غیر طلبہ رہائش پذیر تھے، سکیورٹی فورسز نے کلیئر کر دیا۔ مسنگ پرسنز کا مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں، بلکہ پورے ملک میں موجود ہے۔ دہشتگردوں نے میٹرک کے بچے سے لیکر جسٹس مسکانزئی تک کو شہید کر دیا ہے۔ بیوٹمز یونیورسٹی سے گرفتار پروفیسر عثمان قاضی نے یوم آزادی کے موقع پر 14 خودکش دھماکوں کا منصوبہ بنایا تھا۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے نام پر سیاست کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں تفصیلی بحث ہوئی، اور ان کا نقطہ نظر چیئرمین بلاول بھٹو، صدر مملکت آصف علی زرداری کے موقف کے مطابق تھا۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ سب سے اہم ترجیح ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ تشدد یا طاقت نہیں بلکہ پارلیمنٹ ہے۔
ان کے مطابق این ایف سی ایوارڈ اور فنڈز کے تحفظ کے معاملے پر پارٹی کا موقف واضح اور غیر متزلزل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب ملک کی دفاع کی بات آتی ہے یا خدانخواستہ کوئی قدرتی آفت پیش آتی ہے تو سیاسی اختلافات پس پشت رہ جاتے ہیں اور پوری قوم ایک ساتھ متحد ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں پارٹی بھی بیٹھ سکتی ہے اور حکومت کے ساتھ ڈائیلاگ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی سنجیدہ نوعیت کی ہوتی ہے اور کسی بھی ملک کے لیے چیلنجز پیدا کرتی ہے۔ ملک کی حفاظت اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے افراد جان قربانی دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اور اس کے مقابلے میں مالی مسائل اور دیگر معمولی امور بہت چھوٹی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ لیویز فورس کی تنظیم میں تین اہم اجزا شامل تھے، ٹرائیول سسٹم، سول مجسٹریٹی اور خود لیویز۔ وقت کے ساتھ لیویز فورس دیگر اداروں کی طرح منظم اور ڈسپلنڈ نہیں رہی تھی، جس پر اصلاحات کی ضرورت محسوس کی گئی۔ بلوچستان میں لیویز فورس کو جدید نظام، تربیت اور مراعات فراہم کی جائیں گی۔ پرانے اہلکاروں کو بہتر پینشن اور دیگر فوائد دیئے جائیں گے، جبکہ وہ جو مزید خدمات نہیں دینا چاہتے، وہ اپنی مراعات کے ساتھ رخصت ہو سکتے ہیں اور نئے اہلکار بھرتی کئے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان کے سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کے حقوق
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔