چین کی ایک اور کامیابی، کیریئر راکٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
چین نے لیجیان-1 وائی 9 کیریئر راکٹ کامیابی سے خلائی مدار میں لانچ کر دیا ہے۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم پیشرفت کرتے ہوئے اتوار کے روز لیجیان-1 وائی 9 کیریئر راکٹ کامیابی سے لانچ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی خلابازوں کی واپسی مؤخر، خلائی ملبے کے ممکنہ ٹکراؤ کا شبہ
یہ راکٹ شمال مغربی چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر کے قریب ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے بیجنگ کے مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 32 منٹ پر روانہ ہوا۔
لیجیان-1 وائی 9 راکٹ 2 ٹیکنیکل تجرباتی سیٹلائٹس لے کر خلا میں بھیجا گیا تھا، جنہیں اس نے کامیابی کے ساتھ اپنے مقررہ مدار میں پہنچا دیا۔ یہ لانچ چین کے بڑھتے ہوئے تجارتی خلائی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں تیار کردہ جدید راکٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے خلا میں سیٹلائٹس بھیجنے کے اخراجات کم کرنا اور مقامی سطح پر خلائی صنعت کو فروغ دینا ہے۔
یہ مشن مکمل طور پر کامیاب رہا اور اس نے چین کی نجی خلائی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو بھی نمایاں کیا۔ ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن زون سے کیا گیا یہ لانچ اس بات کی علامت ہے کہ چین سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو بھی خلائی دوڑ میں شراکت دار بنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی خلائی کامیابی، تجارتی راکٹ کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا
تصاویر میں دیکھا گیا کہ لیجیان-1 وائی 9 راکٹ دھوئیں کے بادلوں میں لپٹا آسمان کی جانب بلند ہوا اور چند منٹ بعد دو تجرباتی سیٹلائٹس کو کامیابی سے مدار میں چھوڑ دیا۔ یہ سیٹلائٹس مختلف سائنسی اور تکنیکی تجربات کے لیے استعمال کیے جائیں گے جو مستقبل میں چین کے خلائی مشنوں کے لیے راہ ہموار کریں گے۔
یہ لانچ چین کے لیے ایک اور سنگِ میل ثابت ہوا ہے، جو گزشتہ چند برسوں میں دنیا کے سب سے متحرک خلائی ممالک میں شمار ہونے لگا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news چین خلا ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن زون راکٹ لیجیان-1 وائی 9.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین خلا راکٹ لیجیان 1 وائی 9 راکٹ کامیابی سے لیجیان 1 وائی 9 چین کے کے لیے
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں