وفاقی کابینہ اجلاس: آرمی، ایئرفورس اور نیوی کے بعد آرمی راکٹ فورس کے قیام کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم پر کابینہ کو بریفنگ دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے شہر باکو سے بذریعہ ویڈیو لنک وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں خواجہ آصف، بلال اظہر کیانی، رانا تنویر، رانا مبشر، عون چوہدری ، ڈاکٹر شہزرہ منصب، ریاض حسین پیر زادہ، قیصر احمد شیخ ، ملک رشید احمد شریک ہیں۔
اس کے علاوہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم پر کابینہ کو بریفنگ دی۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی اجلاس کو بریفنگ دی، اجلاس میں پیپلز پارٹی کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
قبل ازیں ذرائع نے کہا کہ اجلاس میں تین ترامیم کی منظوری دی جائے گی، ترامیم میں آئینی کورٹ بنانے، ججز کی ٹرانسفر اور آرٹیکل 243میں تبدیلی ہوگی، 27ویں ترمیم میں آئین کی مختلف شقوں میں کل 46ترامیم کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق آرمی، ایئرفورس اورنیوی کے بعد اب چوتھی فور س” آرمی راکٹ فورس“ (اے آر ایف سی) ہوگی، چیف آف آرمی اسٹاف ”کمانڈر آف ڈیفنس فورسز بھی کہلائیں گے، تمام کوآرڈینیشن چیف آف آرمی سٹاف خود بلحاظ کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کیا کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راکٹ فورس میں اسٹرٹیجک پلان ڈویژن ( ایس پی ڈی) بھی شامل ہے، ایس پی ڈی پہلے چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کے ماتحت کام کرتی تھی، اب چیئرمین جوائنٹ آف سٹاف کاعہدہ ختم ہوجائے گاا ور اس کی جگہ اب کمانڈر آف ڈیفنس فورسز آجائے گی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاس سے آج منظوری کے بعد ترامیم کو سینٹ اجلاس میں پیش کیاجائے گا، سینیٹ میں پیش کرنے کے بعد سینٹ اورقومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی قائم ہوجائے گی جواس پر غور کرے گی، کمیٹی تمام ترامیم پر اپنی رپورٹ دے گی کمیٹی میں مختلف نمائندوں کوخصوصی طور پر شامل بھی کیاجائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ اجلاس میں کے بعد
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔