Daily Sub News:
2026-07-24@04:15:00 GMT

وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی

وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 8 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس) وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم پر کابینہ کو بریفنگ دی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے شہر باکو سے بذریعہ ویڈیو لنک وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں خواجہ آصف، بلال اظہر کیانی، رانا تنویر، رانا مبشر، عون چوہدری ، ڈاکٹر شہزرہ منصب، ریاض حسین پیر زادہ، قیصر احمد شیخ ، ملک رشید احمد شریک ہیں۔

اس کے علاوہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم پر کابینہ کو بریفنگ دی۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی اجلاس کو بریفنگ دی، اجلاس میں پیپلز پارٹی کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔

قبل ازیں ذرائع نے کہا کہ اجلاس میں تین ترامیم کی منظوری دی جائے گی، ترامیم میں آئینی کورٹ بنانے، ججز کی ٹرانسفر اور آرٹیکل 243میں تبدیلی ہوگی، 27ویں ترمیم میں آئین کی مختلف شقوں میں کل 46ترامیم کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق آرمی، ایئرفورس اورنیوی کے بعد اب چوتھی فور س” آرمی راکٹ فورس“ (اے آر ایف سی) ہوگی، چیف آف آرمی اسٹاف ”کمانڈر آف ڈیفنس فورسز بھی کہلائیں گے، تمام کوآرڈینیشن چیف آف آرمی سٹاف خود بلحاظ کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کیا کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ راکٹ فورس میں اسٹرٹیجک پلان ڈویژن ( ایس پی ڈی) بھی شامل ہے، ایس پی ڈی پہلے چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کے ماتحت کام کرتی تھی، اب چیئرمین جوائنٹ آف سٹاف کاعہدہ ختم ہوجائے گاا ور اس کی جگہ اب کمانڈر آف ڈیفنس فورسز آجائے گی۔

ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاس سے آج منظوری کے بعد ترامیم کو سینٹ اجلاس میں پیش کیاجائے گا، سینیٹ میں پیش کرنے کے بعد سینٹ اورقومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی قائم ہوجائے گی جواس پر غور کرے گی، کمیٹی تمام ترامیم پر اپنی رپورٹ دے گی کمیٹی میں مختلف نمائندوں کوخصوصی طور پر شامل بھی کیاجائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا نے شامی صدر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا پاک افغان مذاکرات ناکام؛ طالبان کے رویے پر ثالث بھی مایوس ہو گئے، خواجہ آصف ستائیسویں آئینی ترمیم کے مسودے پر غور کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں جاری چیئرمین سی ڈی اے کے احتسابی ویژن کو سلام، دو سال سے بطور ٹیم ساتھ چلنے والے آفیسرز و آفیشل اچانک نااہل و کرپٹ.

.. وزیراعظم شہباز شریف نیوفاقی کابینہ کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس، 27ویں ترمیم پر ارکانِ مجالس عاملہ کو اعتماد میں لیا گیا پنجاب حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پاور شیئرنگ پر بڑا بریک تھرو TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ کی منظوری

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن