وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 8 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم پر کابینہ کو بریفنگ دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے شہر باکو سے بذریعہ ویڈیو لنک وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں خواجہ آصف، بلال اظہر کیانی، رانا تنویر، رانا مبشر، عون چوہدری ، ڈاکٹر شہزرہ منصب، ریاض حسین پیر زادہ، قیصر احمد شیخ ، ملک رشید احمد شریک ہیں۔
اس کے علاوہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم پر کابینہ کو بریفنگ دی۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی اجلاس کو بریفنگ دی، اجلاس میں پیپلز پارٹی کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
قبل ازیں ذرائع نے کہا کہ اجلاس میں تین ترامیم کی منظوری دی جائے گی، ترامیم میں آئینی کورٹ بنانے، ججز کی ٹرانسفر اور آرٹیکل 243میں تبدیلی ہوگی، 27ویں ترمیم میں آئین کی مختلف شقوں میں کل 46ترامیم کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق آرمی، ایئرفورس اورنیوی کے بعد اب چوتھی فور س” آرمی راکٹ فورس“ (اے آر ایف سی) ہوگی، چیف آف آرمی اسٹاف ”کمانڈر آف ڈیفنس فورسز بھی کہلائیں گے، تمام کوآرڈینیشن چیف آف آرمی سٹاف خود بلحاظ کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کیا کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راکٹ فورس میں اسٹرٹیجک پلان ڈویژن ( ایس پی ڈی) بھی شامل ہے، ایس پی ڈی پہلے چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کے ماتحت کام کرتی تھی، اب چیئرمین جوائنٹ آف سٹاف کاعہدہ ختم ہوجائے گاا ور اس کی جگہ اب کمانڈر آف ڈیفنس فورسز آجائے گی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاس سے آج منظوری کے بعد ترامیم کو سینٹ اجلاس میں پیش کیاجائے گا، سینیٹ میں پیش کرنے کے بعد سینٹ اورقومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی قائم ہوجائے گی جواس پر غور کرے گی، کمیٹی تمام ترامیم پر اپنی رپورٹ دے گی کمیٹی میں مختلف نمائندوں کوخصوصی طور پر شامل بھی کیاجائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا نے شامی صدر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا پاک افغان مذاکرات ناکام؛ طالبان کے رویے پر ثالث بھی مایوس ہو گئے، خواجہ آصف ستائیسویں آئینی ترمیم کے مسودے پر غور کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں جاری چیئرمین سی ڈی اے کے احتسابی ویژن کو سلام، دو سال سے بطور ٹیم ساتھ چلنے والے آفیسرز و آفیشل اچانک نااہل و کرپٹ... وزیراعظم شہباز شریف نیوفاقی کابینہ کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس، 27ویں ترمیم پر ارکانِ مجالس عاملہ کو اعتماد میں لیا گیا پنجاب حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پاور شیئرنگ پر بڑا بریک تھرو
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ کی منظوری
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔