ڈینگی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں جائیں،میئر حیدرآباد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-2-2
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)میئر حیدرآباد کاشف علی شورو کی شہر میں ڈینگی کی روک تھام کے سلسلے میں بلدیہ اعلی حیدرآباد کے شعبہ ملیریا کی جانب سے ضلع کے 9 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کی حدود میں آنے والے علاقوں میں جاری فیومیگیشن مہم کو مزید تیز اور موثر بنانے کے حوالے سے بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد اقدامات تیز کردیئے ہیں اور اسپرے کی نئی مشینوں کی خریداری کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ جات سے عملے کی شعبہ ملیریا میں تعیناتی کرکے ویکسینیٹرز کی تعدا د میں اضافہ کردیا گیا ہے،تمام تعلقہ سٹی، لطیف آباد، قاسم آباد اور رورل پر مشتمل 9 ٹاؤنز میں عوام الناس کو ڈینگی سے بچانے اورمہم کو موثر بنانے کیلئے بلدیہ اعلیٰ کے مختلف افسران و انڈر ٹرینی افسران کی بھی ٹاؤن وائز ٹیمیں تشکیل دیکر فیومیگیشن کی مکمل مانٹیرنگ کی جارہی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔