پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے صوبائی حکومت کو مزید وقت مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے صوبائی حکومت کو مزید وقت مل گیا۔ الیکشن کمیشن نے صوبائی چیف سیکرٹری کی جانب سے پیش کردہ ٹائم لائن کی منظوری دے دی۔ تمام قانونی تقاضے پورے کرکے دس جنوری 2026 تک مصدقہ نقشے مانگ لیے۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت اہم اجلاس میں پنجاب کے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پیش ہوئے اور نئے قانون کے مطابق حلقہ بندی رولز کا ڈرافٹ جمع کرایا۔ اعلامیے کے مطابق الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کرائی گئی کہ کنڈکٹ آف الیکشن رولز کا ڈرافٹ 15 نومبر ، ٹاؤن ، میونسپل کارپوریشنز ، کمیٹیز اور تحصیل کونسلز کی درجہ بندی کے نوٹیفکیشن 22دسمبر2025 تک جمع کرا دیئے جائیں گے ۔ یونین کونسلز کی تعداد کے نوٹیفکیشنز 31دسمبر اور مصدقہ نقشہ جات الیکشن کمیشن کو 10جنوری 2026 تک فراہم کر دیئے جائیں گے۔
بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دوبارہ کابینہ کا حصہ بننا اصل انعام ہے: مزمل اسلم
الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کی مہلت کی استدعا منظور کر لی ۔ صوبائی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کا کہنا تھا کہ تمام کام مقررہ وقت میں کر لیے جائیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر نے صوبائی چیف سیکرٹری پر زور دیا کہ تجوزیز کردہ شیڈول کے مطابق تمام کام ہر صور ت مکمل کیا جائے تاکہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کا کام شروع کرسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن کے مطابق
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔