یکم نومبر یوم آزادی گلگت بلتستان کے موقع پر گلگت میں بڑے جلسے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے یکم نومبر کو یومِ امن و یکجہتی کے نام پر ایک جلسہ عام کا اعلان کیا ہے، یہ پروگرام یکم نومبر 2025ء بروز ہفتہ دن دو بجے اتحاد چوک گلگت کے مقام پر ہوگا اسلام ٹائمز۔ یکم نومبر گلگت بلتستان کے یوم آزادی کے موقع پر عوامی ایکشن کمیٹی نے گلگت میں اتحاد چوک پر بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی یوتھ ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جس طرح کے حالات سے گلگت بلتستان گزر رہا ہے، یوں کہے تو غلط نہ ہو گا کہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ کرو یا مرو والی صورتحال بنتی جا رہی ہے۔ عوامی تحریک پر کریک ڈاؤن، حقوقِ کی بات کرنے والوں پر دہشتگردی کے دفعات لگا کر قید و بند، سخت ترین جسمانی و ذہنی تشدد، سوشل میڈیا پر حکومت کی استحصالی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر سائبر کرائم کے نوٹسز، طلباء حقوق پر بات کرنے والے سٹوڈنٹ لیڈرز کی گرفتاری، وسائل و دولت کو بغیر مقامی لوگوں کی مرضی کے سامراجی کمپنیوں کو فروخت کرنا، لینڈ گریبنگ ایکٹ کے زریعے زمینوں پر قبضے، بیس بائیس گھنٹے کی طویل لوڑ شیڈنگ، ایسے میں عوامی تحریک کو ابھرتے دیکھ کر حکمران طبقہ عوام کو مسلکی بنیادوں میں تقسیم کرنے کی بے شمار سازشیں کر رہا ہے، مزاحمتی آوازوں کو کچلنے کی بے شمار کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بیان کے مطابق ایسی صورتحال میں گلگت بلتستان کے مظلوم و محکوم عوام کی آواز عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے یکم نومبر کو یومِ امن و یکجہتی کے نام پر ایک جلسہ عام کا اعلان کیا ہے، یہ پروگرام یکم نومبر 2025ء بروز ہفتہ دن دو بجے اتحاد چوک گلگت کے مقام پر ہوگا اور اس جلسے کا بنیادی مقصد جیسا کہ "یوم امن و یکجہتی" ٹائٹل سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کو تقسیم کرنے کی سازش کو رد کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا اور یکم نومبر کو ہونے والے تاریخی ایونٹس پر روشنی ڈالنا کہ کیا یکم نومبر کو گلگت بلتستان واقعی آزاد ہوا تھا؟ کیا یہ میجر براؤن اور برطانوی سامراج کی کوئی سازش تھی؟ کیا یہ کوئی عوامی بغاوت تھی یا فوجی؟ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان عوام گلگت بلتستان بالخصوص نوجوانان گلگت بلتستان سے اپیل کرتی ہے کہ یکم نومبر کو اتحاد چوک گلگت میں ہونے والے امن اور یکجہتی کے جلسے میں شرکت کر کے عوام کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کو بتا دیں کہ ہم ایک ہیں، ہمارے مسائلِ ایک ہے اور ان مسائل کا حل امن اور یکجہتی کے زریعے ہی عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے یکم نومبر کو اتحاد چوک یکجہتی کے کا اعلان عوام کو
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :