حماس کیجانب سے 3 اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے پر خوشی ہوئی، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اب تک دنیا بھر میں 8 جنگیں رکوائیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکا یوکرین کو ٹوماہاک کروز میزائل دینے پر فی الحال غور نہیں کر رہا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے 3 قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے پر خوشی ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اب تک دنیا بھر میں 8 جنگیں رکوائیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکا یوکرین کو ٹوماہاک کروز میزائل دینے پر فی الحال غور نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ نائجیریا میں امریکی زمینی فوج یا فضائی حملے ممکن ہیں، نائجیریا میں مسیحیوں کو بڑے پیمانے پر ہلاک کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں ٹیرف سے متعلق کیس ملک کی تاریخ کا اہم کیس ہے، سپریم کورٹ میں ٹیرف کیس کی سماعت میں شرکت نہیں کروں گا اور میں کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہتا، جو اس فیصلے کی اہمیت کو کم کرے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ دنیا برسوں سے ہمارے خلاف ٹیرف لگا رہی تھی، ہم کئی ممالک خاص طور پر چین کی جانب سے استحصال کا شکار رہے، مگر اب ایسا نہیں ہے، ٹیرف نے ہمیں زبردست قومی سلامتی دی ہے۔ برطانوی شاہی خاندان سے شہزادہ اینڈیو کی شاہی نوازشات سے بے دخلی کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ "شہزادہ اینڈریو، جیفری ایپسٹین اسکینڈل افسوسناک ہے اور شاہی خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ برا ہوا۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی صدر کہا ہے کہ انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔