سوشل میڈیا ناقدین نے ڈاکٹر نبیہا کو رُلا دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہا اپنی شادی کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر فرط جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔
ڈاکٹر نبیہا نے حال ہی میں نجی ٹی وی کے پوڈ کاسٹ میں اپنے خاوند حارث کھوکھر کے ساتھ شرکت کی اور میزبان فضا علی کے سوالات کے جوابات دیے۔
پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران نبیہا نے نکاح کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور نفرت پر بات کی اور اس دوران وہ جذباتی ہوگئیں۔ جس پر میزبان کو اپنی سیٹ چھوڑ کر انہیں ٹشو پیپر اور دلاسہ دینا پڑا۔
ڈاکٹر نبیہا نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد والدہ نے بڑی محنت سے انہیں پالا، جس کی وجہ سے انہوں نے کم عمری سے ہی کام کرنا شروع کیا تاکہ والدہ کا بوجھ کم ہو۔
ڈاکٹر نبیہا اپنی والدہ کے انتقال کا تذکرہ کرتے ہوئے جذباتی ہوئیں اور انہیں یاد کر کے آنسو ضبط نہ کرسکیں اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا تذکرہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’میں چاہتی ہوں جو مشکلات اور مسائل میں نے دیکھے وہ کوئی اور لڑکی نہ دیکھے‘۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دوسری کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتیں اور آئندہ بھی زندگی اپنی مرضی سے گزاریں گی۔
میزبان نے ڈاکٹر نبیہا سے اُن کے شوہر کے سامنے پہلی شادی سے متعلق بھی سوال کیا جس پر سوشل میڈیا انفلوئنسر نے کہا کہ وہ اپنے شوہر حارث کو ماضی کے حوالے سے سب کچھ بتاچکی ہیں اور ہر بات اُن کے علم میں ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر نبیہا علی خان نے اپنی عمر سے چھوٹے دوست سے حال ہی میں نکاح کیا، دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ چھ سال سے دوستی تھی اور ایک ہی ادارے میں کام بھی کرتے تھے۔
ڈاکٹر نبیہا نے بتایا کہ انہوں نے حارث کو پسند کیا اور پھر ایک مشترکہ جاننے والے کے ذریعے شادی کی خواہش کا اظہار کیا جس پر وہ راضی ہوئے۔
دونوں کا نکاح معروف مبلغ مولانا طارق جمیل کے گھر پر ہوا، اس دوران کچھ ایسی چیزیں اور ویڈیوز بھی سامنے آئیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس جوڑی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر پر شادی کے لباس اور جیولری کی قیمت پر بھی تنقید کی گئی تاہم انہوں نے بعد میں اپنے ان دونوں بیانات کو واپس لیتے ہوئے غلطی تسلیم کی اور کہا کہ وہ جذبات میں قیمت کچھ زیادہ ہی بتا گئیں تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر ڈاکٹر نبیہا انہوں نے کے بعد کہا کہ
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔