حیدرآباد میں پٹاخے بنانے والی فیکٹری میں دھماکا، 5 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
فائر بریگیڈ کے عملے نے عمارت میں لگی آگ پر قابو پا لیا، فیکٹری کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا بھی خدشہ ہے جبکہ متعدد موٹر سائیکلیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، فیکٹری کھیتوں کے درمیان بنائی گئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں پٹاخے بنانے والی فیکٹر میں دھماکے کے باعث 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق فیکٹری میں کام کرنے والے 8 دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، فائر بریگیڈ کے عملے نے عمارت میں لگی آگ پر قابو پا لیا، فیکٹری کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا بھی خدشہ ہے جبکہ متعدد موٹر سائیکلیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، فیکٹری کھیتوں کے درمیان بنائی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔