اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کےالتوا کے معاملے پر فیصلہ محفوظ، چیف الیکشن کمشنر کے اہم ریمارکس WhatsAppFacebookTwitter 0 13 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) الیکشن کمشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی، ایڈیشنل سیکریٹری وزارت داخلہ نذر محمد بزدر اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا پیش ہوئے۔

چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ تو بات چیف افسر تک پہنچ گئی ہے، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ ہائیکورٹ میں ہیں وہ تھوڑی دیر میں آئیں گے، وفاقی حکومت کی جانب سے یونین کونسلر بڑھانے کے باعث انتخابات ملتوی ہوئے۔

ظفر اقبال نے کہا کہ دوبارہ الیکشن کمیشن نے الیکشن پروگرام ایشو کیا، حدبندیاں کی گئیں۔

اسپیشل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ پہلے مخصوص نشستوں کے باعث شیڈول جاری نہیں کیا گیا تھا، الیکشن کمیشن نے اب تمام اقدامات مکمل کرلیے ہیں، انتخابی مواد سمیت حلقہ بندیاں مکمل ہیں، اس سے متعلق کیس ہائی کورٹ میں چلتا رہا ہے اور فیصلہ محفوظ کیا گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اب انتخابی تاریخ کا اعلان کرے گا، ہم پر پابندی نہیں ہے کہ سیکریٹری یونین کونسلز کے ذریعے ہی انتخابات کرائیں، تین صوبوں میں الیکشن ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہونے والے ہیں، پنجاب سے متعلق معاملہ حل ہوچکا ہے جلد وہاں انتخابات ہوجائیں گے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اسلام آباد میں مقامی حکومت کا قیام نہیں ہوا، الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا جس پر عملدرآمد کرنا پڑے گا۔

ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو کہا جاسکتا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مذاق تو نہیں ہے ہر بار انتخابات ملتوی ہوتے رہیں، اب تو لحاظ کیا ہے کہ کسی کو ان پرسن نہیں بلایا گیا، سیکرٹری داخلہ کو کہا تھا اس کو سنجیدگی سے لیا جائے ،چیف الیکشن کمشنر اب ہم فیصلہ ہی جارہی کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کو آئندہ ماہ آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط ملنے کی توقع علیمہ خان کے 10ویں بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ستائیسویں آئینی ترمیم کا نیا متن آج سینیٹ سے منظور کرایا جائے گا امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ختم، سینیٹ اور ایوان نمائندگان نے تاریخی بل منظور کر لیا آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد کل وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس طلب،اہم فیصلے متوقع افغانستان سے آمد ورفت کم ہوگی تو پاکستان میں دہشتگردی بھی کم ہوگی، خواجہ آصف کا تجارت بند کرنے کے بیان پر ردعمل کار دھماکے اور مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں میں ممکنہ تعلق کی تحقیقات جاری ہے، دہلی پولیس TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر اسلام ا باد میں فیصلہ محفوظ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن