شیر شاہ میں یوی ٹرالر بےقابو ہوکر برج کی دیوار توڑ کر لٹک گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
شیرشاہ ہیوی ٹرالر بےقابو ہو کر برج کی حفاظتی دیوار توڑتا ہوا برج سے لٹک گیا ہے
تفصیلات کے مطابق شیرشاہ میں پراچہ برج پرہیوی ٹرالر ڈرائیور سے بےقابو ہونے کے بعد فٹ پاتھ اور برج کی حفاظتی دیوار توڑتا ہوا برج سے لٹک گیا ہے۔حادثے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ شیرشاہ پراچہ برج پرہیوی ٹرالرڈرائیورسے بےقابوہونےکے بعد فٹ پاتھ اوربرج کی حفاظتی دیوارتوڑتا ہوا برج سےلٹک گیا جس کے باعث پراچہ برج پر ٹریفک کی روانی متاثرہو گئی۔حادثے میں کسی قسم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ہیوی ٹرالرشیرشاہ پراچہ برج سے بلدیہ کی جانب جا رہا تھا۔اسی دوران ٹرک کے خوفناک حادثے کا شکارہوکر برج سے لٹگ گیا۔ ،حادثے کے فوری بعد ٹریفک پولیس موقع پر پہنچ گئی اورٹریفک کو رواں دواں کیا جا رہا ہے۔پراچہ برج کے نیچے والی ٹریفک کوسنگل ٹریک پرچلایا جا رہا ہے جبکہ ہیوی ٹرالرکو ہٹانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔