شیرشاہ ہیوی ٹرالر بےقابو ہو کر برج کی حفاظتی دیوار توڑتا ہوا برج سے لٹک گیا ہے

تفصیلات کے مطابق شیرشاہ میں پراچہ برج پرہیوی ٹرالر ڈرائیور سے بےقابو ہونے کے بعد فٹ پاتھ اور برج کی حفاظتی دیوار توڑتا ہوا برج سے لٹک گیا ہے۔حادثے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ شیرشاہ پراچہ برج پرہیوی ٹرالرڈرائیورسے بےقابوہونےکے بعد فٹ پاتھ اوربرج کی حفاظتی دیوارتوڑتا ہوا برج سےلٹک گیا جس کے باعث پراچہ برج پر ٹریفک کی روانی متاثرہو گئی۔حادثے میں کسی قسم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ہیوی ٹرالرشیرشاہ پراچہ برج سے بلدیہ کی جانب جا رہا تھا۔اسی دوران ٹرک کے خوفناک حادثے کا شکارہوکر برج سے لٹگ گیا۔ ،حادثے کے فوری بعد ٹریفک پولیس موقع پر پہنچ گئی اورٹریفک کو رواں دواں کیا جا رہا ہے۔پراچہ برج کے نیچے والی ٹریفک کوسنگل ٹریک پرچلایا جا رہا ہے جبکہ ہیوی ٹرالرکو ہٹانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پراچہ برج برج کی

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی