امیتابھ بچن اپنے 2 لگژری فلیٹس عجلت میں فروخت کرنے پر مجبور؛ وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اپنے شہرۂ آفاق پروگرام کون بنے گا کروڑ پتی سے مقبول میزبان بھی بن گئے لیکن دوسروں کو مالا مال بنانے والے امیتابھ بچن نے حال ہی اپنے دو فلیٹس فروخت کردیئے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق امیتابھ بچن نے ممبئی میں اپنے دو لگژری اپارٹمنٹس جلد بازی میں 12 کروڑ روپے میں فروخت کردیئے ہیں۔
رئیل اسٹیٹ کے ماہرین نے بتایا کہ اداکار امیتابھ بچن کاروبار کی کافی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور ان کا یہ فیصلہ بھی ایک کاروباری اقدام تھا۔
ماہرین کے بقول لیجنڈری اداکار نے اچھا منافع ملنے پر فوری طور پر ان دو فلیٹس کو فروخت کر کے 47 فیصد منافع کمایا ہے۔
ریئل اسٹیٹ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والے ادارے سی آر میٹرکس نے ان فلیٹس کی خرید و فروخت کے دستاویزات حاصل کیے ہیں۔
دونوں فلیٹس معروف رہائشی عمارت کی 47ویں منزل پر ہے ایک اپارٹمنٹ کا رقبہ 1820 اسکوائر فٹ ہے۔ جنھیں اداکار امیتابھ نے 2012 میں 8.
تاہم اب لیجنڈری اداکار نے ان دونوں فلیٹس کو 12 کروڑ روپے میں فروخت کیا ہے یعنی 47 فیصد منافع حاصل کیا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل امیتابھ بچن
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔