data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251113-08-8
اسلام آباد(صباح نیوز)عدالت عظمیٰ نے سندھ حکومت کوملازمتوں میں معذور افراد کے حوالہ سے 2018ء کے قانون کے تحت مختص کردہ 5کوٹہ پر عملدرآمد کاحکم دے دیا۔ عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر 109درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیں۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سند ھ ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ معذور افراد کے حوالہ سے مختص کردہ 5فیصد کوٹے پر عمل کریں اس میں کیا بری بات ہے۔ اس میں کیا بری بات ہے کہ کوئی معذور شخص بغیر ملازمت کے نہیں رہنا چاہیئے۔ جسٹس محمدعلی مظہرنے ریمارکس دیے ہیں کہ معذور افراد کے حوالہ سے 5فیصد مخص کوٹہ پر عملدرآمد یقینی بناناہے، قانون پرعملدرآمد کی بات ہورہی ہے کیا سندھ حکومت اپنے بنائے گئے 2018کے قانون پر عملدرآمد نہیں کرے گی۔ سندھ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ کوئی معذور شخص ملازمت کے بغیر نہ رہے، یہ تونہیں کہ کوٹہ 5فیصد سے بڑھا کر15فیصد کردیا ہو۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اورجسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 3رکنی بینچ نے بدھ کو کیسز کی سماعت کی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ حکومت

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود