ایرانی دارالحکومت تہران میں پانی کا شدید بحران، شہر خالی کرنے کی نوبت آگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کے دارالحکومت تہران کو اس وقت تاریخ کے بدترین پانی کے بحران کا سامنا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بارشوں میں نمایاں کمی اور شدید خشک سالی کے باعث شہر کے آبی ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پرشکیان نے سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر آنے والے دنوں میں بارش نہ ہوئی تو تہران میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نومبر کے آخر یا دسمبر کے آغاز سے پانی کی راشننگ (منصوبہ بند تقسیم) شروع کرنے جا رہی ہے، تاکہ دستیاب ذخائر کو زیادہ دیر تک برقرار رکھا جا سکے۔
صدر پرشکیان نے مزید کہا کہ اگر راشننگ کے دوران بھی بارشیں نہ ہوئیں تو حکومت کو تہران شہر کو جزوی طور پر خالی کرانے کا فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ دستیاب پانی محض دو ہفتوں کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال ملک بھر میں بارشوں میں 40 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جب کہ بعض صوبوں میں پانی کی کمی 50 سے 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے کئی علاقے اس وقت بدترین خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں، جس کے اثرات نہ صرف زرعی شعبے بلکہ گھریلو پانی کی فراہمی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ حکومت نے شہریوں سے پانی کے ضیاع سے گریز اور محتاط استعمال کی اپیل کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔