Daily Sub News:
2026-06-03@02:26:14 GMT

ایران میں پانی کا بحران سنگین، تہران کے خالی ہونے کا خدشہ

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

ایران میں پانی کا بحران سنگین، تہران کے خالی ہونے کا خدشہ

ایران میں پانی کا بحران سنگین، تہران کے خالی ہونے کا خدشہ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 November, 2025 سب نیوز

تہران (آئی پی ایس) ایران کو پانی کے بدترین بحران کا سامنا ہے، اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں خشک سالی جاری رہی تو ایک کروڑ آبادی کا شہر تہران جلد ہی ناقابل رہائش ہوجائے گا، صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر دسمبر تک بارش نہیں ہوئی تو حکومت کو تہران میں پانی کی تقسیم شروع کرنی پڑے گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر نے 6 نومبر کو خبردار کیا کہ ’اگر ہم تقسیم بھی کریں اور پھر بھی بارش نہ ہو، تو ہمارے پاس بالکل پانی نہیں ہوگا، شہریوں کو تہران چھوڑنا ہوگا‘۔
ایران کے روحانی حکمرانوں کے لیے صورتحال سنگین ہے، 2021 میں پانی کی قلت نے جنوبی خوزستان صوبے میں پرتشدد مظاہرے بھڑکا دیے تھے، اور 2018 میں بھی کسانوں نے حکومت پر پانی کے انتظام میں ناکامی کے الزامات عائد کیے تھے۔
گرمیوں کے شدید موسم کے بعد پانی کا بحران صرف کم بارش کا نتیجہ نہیں ہے، برسوں کی بدانتظامی، بشمول ڈیموں کی زیادہ تعمیر، غیر قانونی کنوؤں کی کھدائی اور غیر مؤثر زرعی طریقوں نے پانی کے ذخائر کو ختم کر دیا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے بحران کے لیے پچھلی حکومتوں کی پالیسیاں، موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی زیادتی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
اگرچہ اس وقت مظاہروں کا کوئی اشارہ نہیں ہے، ایرانی عوام بالخصوص ملک کے متنازع جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے پہلے ہی معاشی مشکلات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، پانی کی کمی سے خاندان اور برادریاں مزید دباؤ میں ہیں، جس سے مظاہروں کا امکان بڑھ سکتا ہے، جب کہ مذہبی قیادت پہلے ہی اپنے جوہری عزائم پر بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا انکار کرتا ہے۔
تہران میں پانی کی صورتحال خراب ہے، مشرقی تہران میں رہنے والی مہناز کے مطابق پچھلے ہفتے پانی اچانک بند ہو گیا اور رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک نہیں آیا، وہ اور ان کے 2 بچے صرف بوتل کے پانی سے دانت صاف کر کے اور ہاتھ دھو کر گزارا کرتے رہے۔
ایران کی نیشنل واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی نے تہران میں باضابطہ پانی کی تقسیم کی رپورٹس کو مسترد کر دیا، لیکن تصدیق کی کہ کچھ علاقوں میں رات کے وقت پانی کا پریشر کم کیا جا رہا ہے، اور کچھ اضلاع میں پانی مکمل طور پر بند ہو سکتا ہے۔
پزشکیان نے جولائی میں بھی پانی کے زیادہ استعمال سے خبردار کیا تھا، جب متعلقہ حکام نے کہا تھا کہ تہران کے 70 فیصد رہائشی روزانہ معیاری 130 لیٹر سے زیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں۔
ایران میں گزشتہ برسوں میں بلند مانگ کے دوران بجلی، گیس اور پانی کی کمی معمول رہی ہے، تہران کے پانی کے شعبے کے عہدیدار بہزاد پارسا کے مطابق تہران کے ذخائر جو کبھی تقریباً 500 ملین مکعب میٹر پانی ذخیرہ کر سکتے تھے، اب صرف 250 ملین پر ہیں، یعنی آدھی کمی، اور موجودہ استعمال کی شرح پر یہ دو ہفتوں میں ختم ہو سکتے ہیں۔
پورے ملک میں 19 بڑے ڈیم (ایران کے کل ڈیموں کا تقریباً 10 فیصد) مؤثر طور پر خشک ہو چکے ہیں، ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں 40 لاکھ آبادی کے لیے پانی کے ذخائر 3 فیصد سے بھی کم رہ گئے ہیں، مقامی شہری رضا نے کہا کہ پانی کا دباؤ اتنا کم ہے کہ دن کے وقت پانی دستیاب نہیں ہے، اور یہ بدانتظامی کی وجہ سے ہے۔
یہ بحران ریکارڈ توڑ درجہ حرارت اور بجلی کے مسلسل بند ہونے کے بعد سامنے آیا ہے، جولائی اور اگست میں حکومت نے پانی اور توانائی کی بچت کے لیے ہنگامی تعطیلات کا اعلان کیا، بعض عوامی عمارتیں اور بینک بند کر دیے کیونکہ کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا تھا۔
حکام کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے مسئلے کو مزید سنگین کر دیا ہے، کیونکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے بخارات اور زیر زمین پانی کی کمی تیز ہو گئی ہے۔
کچھ اخبارات نے حکومت کی ماحولیاتی پالیسیوں پر تنقید کی، ان میں غیر اہل افراد کی تعیناتی اور وسائل کے انتظام میں سیاست کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا، لیکن حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
الہامی مدد کی اپیلیں بھی دوبارہ سامنے آئی ہیں، تہران کے سٹی کونسل کے سربراہ مہدی چمران نے ریاستی میڈیا کو بتایا کہ ’ماضی میں لوگ بارش کے لیے صحراؤں میں جاتے تھے، شاید ہمیں اس روایت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے‘۔
حکام عارضی اقدامات کر رہے ہیں تاکہ موجودہ وسائل کو محفوظ رکھا جا سکے، جیسے بعض علاقوں میں پانی کے دباؤ کو کم اور تہران کو دیگر ذخائر سے پانی منتقل کیا جارہا ہے، تاہم یہ صرف وقتی حل ہیں، اور عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ بڑے نقصان سے بچنے کے لیے پانی کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک، پمپ اور دیگر آلات نصب کریں۔
اصفہان کی ایک یونیورسٹی استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’بہت کم اور بہت تاخیر سے، وہ صرف وعدے کرتے ہیں لیکن ہم کوئی عملی اقدام نہیں دیکھتے، یہ زیادہ تر تجاویز عملی نہیں ہیں‘۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد کچہری دھماکا، خودکش حملہ آور کے سہولت کار اور ہینڈلر گرفتار اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کےالتوا کے معاملے پر فیصلہ محفوظ، چیف الیکشن کمشنر کے اہم ریمارکس علیمہ خان کے 10ویں بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ستائیسویں آئینی ترمیم کا نیا متن آج سینیٹ سے منظور کرایا جائے گا امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ختم، سینیٹ اور ایوان نمائندگان نے تاریخی بل منظور کر لیا آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد کل وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس طلب،اہم فیصلے متوقع افغانستان سے آمد ورفت کم ہوگی تو پاکستان میں دہشتگردی بھی کم ہوگی، خواجہ آصف کا تجارت بند کرنے کے بیان پر ردعمل TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: میں پانی تہران کے پانی کا

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا