کوئٹہ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، محکمہ آبپاشی کی نااہلی کی نشاندہی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اجلاس میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے واضح کیا کہ نہ پانی کی صحیح پیمائش ہو رہی ہے اور نہ ہی محکمے کی نگرانی مؤثر ہے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ذمہ داران کیخلاف کارروائی ہوگی تاکہ مالی معاملات کو درست خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے محکمہ آبپاشی کی آڈٹ رپورٹ کے دوران نااہلی کی نشاندہی کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقدہ ہونے والے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین اصغر علی ترین نے کی، جبکہ اجلاس میں کمیٹی ارکان زمرک خان اچکزئی، ولی محمد نورزئی، فضل قادر مندوخیل، غلام دستگیر بادینی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ، اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان نصراللہ جان، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، ایڈیشنل سیکرٹری اسمبلی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال اور چیف اکاؤنٹس آفیسر پی اے سی سید ادریس آغا اور محکمہ کے اعلی آفیسر نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ آبپاشی کے کمپلائنس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ محکمہ آبپاشی کی ذمہ داری نہروں کی تعمیر و دیکھ بھال، ڈیلے ایکشن ڈیمز، آبی ذخائر، پینے اور زرعی پانی کے مستقل و عارضی ذرائع کی فراہمی کے منصوبوں، دریا کناروں کے سروے، واٹر لاگنگ اور فلڈ کنٹرول اسکیموں پر عملدرآمد شامل ہے۔
چیئرمین نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود واجبات کی ریکوری نہیں کی گئی، جبکہ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ نہر آبپاشی ڈویژن حب کے 35 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری فوری طور پر کی جائے گی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020-22 کے دوران محکمے کی مختلف ڈویژنز نے ناقابل قبول آئٹمز اور غلط بلند ریٹس پر ادائیگیوں کی مد میں 6 کروڑ 83 لاکھ روپے کے اخراجات کیے، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ یہ بے ضابطگیاں کمزور مالی نظم و نسق کا نتیجہ ہیں، اور متعلقہ ڈویژنز کی جانب سے بروقت جواب بھی جمع نہیں کرایا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ گروک اسٹوریج ڈیم تاحال مکمل نہیں ہوا، جبکہ منصوبے کو جلد مکمل ہونا چاہیے تھا۔ چیئرمین نے کہا کہ منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی نے گروک ڈیم کی تکمیل کے لیے فروری تک کی مہلت دے دی۔ اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ صوبے میں پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی ایک غلط روایت بن چکی ہے، جبکہ محکمے موجود ہونے کے باوجود پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی قواعد کے خلاف ہے۔ یہ افسران جوابدہ نہیں ہوتے اور منصوبوں کی کارکردگی کا کوئی جائزہ نہیں لیا جاتا۔ کمیٹی نے نہر آبپاشی ڈویژن حب کی جانب سے ریکوری نہ ہونے پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
محکمے نے دعویٰ کیا کہ اے جی آفس کو سکیورٹی ڈپازٹس کے لیے خط لکھا گیا ہے، مگر کمیٹی نے اے جی بلوچستان کو طلب کیا اور ان سے اس بارے میں استفسار کیا، لیکن اے جی بلوچستان نے لیٹر دیکھ کر کہا کہ یہ لیٹر ہمیں نہیں لکھا گیا ہے۔ مزید انکشاف کیا گیا کہ حب سے پانی کی فراہمی کا طریقہ کار غیر مؤثر ہے۔ حب ڈیم سے لیڈا کو پانی غلط طریقے سے ہو رہا ہے، اور لیڈا کے ذمے واجبات بھی واجب الادا ہیں۔ آڈٹ نے سفارش کی کہ فراہمی آب کے مؤثر نظام کی تشکیل، بقایاجات کی ریکوری اور پانی کی پیمائش کے نظام کو فوری بہتر بنایا جائے، اور ذمہ دار آفیسر احکامات پر عملدرآمد کرے۔ کمیٹی نے یاد دہانی کرائی کہ پی اے سی کی 13 نومبر 2024 کی ہدایات کے مطابق پانی کے نرخ 1994 سے نظرثانی نہ ہونا سنگین غفلت ہے۔ لیڈا کو 1000 گیلن پانی 7 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ وہی پانی صنعتی یونٹس کو 250 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، جو کہ ناانصافی اور سرکاری خسارے کا باعث ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ نرخ فوری طور پر 100 روپے فی 1000 گیلن مقرر کرکے چیف سیکرٹری کے ذریعے نوٹیفائی کیے جائیں۔ کمیٹی نے کہا کہ محکمے کی جانب سے مسلسل غفلت، حقائق کی غلط بیانی اور ریکوری میں ناکامی قابل قبول نہیں ہے۔ چیئرمین نے واضح کیا کہ نہ پانی کی صحیح پیمائش ہو رہی ہے اور نہ ہی محکمے کی نگرانی مؤثر ہے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی تاکہ مالی معاملات کو درست خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی محکمہ آبپاشی اجلاس میں محکمے کی کمیٹی نے پانی کی کہا کہ کیا جا کیا کہ
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے