طوفان فنگ وونگ سے فلپائن میں 18 ہلاکتیں، چین نے ہنگامی امداد فراہم کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فلپائن میں آنے والے طاقتور طوفان فنگ وونگ نے ملک کے مختلف علاقوں میں تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق جبکہ 2 لاپتہ ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طوفان کے باعث ہونے والی شدید بارشوں اور طغیانی نے ملک کے بڑے حصے کو متاثر کیا، جس سے 20 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، ملک کے 15 علاقوں میں تقریباً 24 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سنٹرل لوزون، بنگسامورو (BARMM) اور ویسٹرن وسایاس شامل ہیں۔ حکام کے مطابق 8 لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد کو تقریباً 12 ہزار عارضی کیمپوں میں پناہ دی گئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ ہلاکتوں کی زیادہ تر اطلاعات کارڈیلیرا ایڈمنسٹریٹو ریجن، کاگایان ویلی، بیکل اور ویسٹرن وسایاس سے موصول ہوئیں۔ اب تک 28 افراد زخمی جبکہ دو افراد تاحال لاپتہ ہیں، ملک کے متعدد علاقے اب بھی زیرِ آب ہیں، 8 علاقوں میں 267 مقامات پر سیلابی پانی موجود ہے، جن میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بیکل ریجن ہے جہاں 161 مقامات پر اب بھی پانی کھڑا ہے۔
سیلاب کے باعث درجنوں سڑکیں، پل اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی بھی منقطع ہے، طوفان فنگ وونگ جسے مقامی طور پر طوفان اووان (Uwan) کہا جاتا ہے، فلپائن کے حدود سے نکل گیا، تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ رواں ہفتے کے آخر میں دوبارہ واپس آسکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے آنے والے طوفان کالمیگی نے بھی فلپائن میں 224 افراد کی جان لے لی تھی جبکہ 100 سے زائد افراد لاپتہ اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
چین نے فلپائن میں حالیہ طوفان سے متاثرہ افراد کے لیے نقد امداد اور ہنگامی سامان فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ ہم متاثرین کے لیے تعزیت اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور اس مشکل گھڑی میں فلپائن کے عوام کے ساتھ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلپائن میں علاقوں میں ملک کے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔