کیا ہائی کورٹ کادائرہ اختیارواپس لیا جاسکتا ہے ؟جسٹس جمال مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ کے سینئر رکن جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سوال پوچھنا پڑتا ہے چاہے احمقانہ ہویانہ ہو۔ کیا ہائی کورٹ کادائرہ اختیارواپس لیا جاسکتا ہے۔ جبکہ جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 199کے تحت قانون، ذیلی قانون سازی اور رولز کے نفاذ کے حوالہ سے ہائی کورٹ کوخصوصی دائرہ اختیارحاصل ہے۔ سروسز ٹربیونل کاکام بیٹھ کرقانون کے قانونی یاغیرقانونی ہونے کودیکھنا نہیں، آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ کووسیع دائرہ اختیارحاصل ہے، آئینی عدالت کااختیار قانون کودیکھنا ہے ، ٹربیونل کایہ اختیارنہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل،جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس عامرفاروق پر مشتمل 5رکنی آئینی بینچ نے بدھ کے روز سروس اورپی ایس ایس اور ایکس پی سی ایس افسران کی کیڈر کی تبدیلی کے معاملہ سندھ حکومت کی جانب سے 2018میں نافذ کئے جانے والے قانون کوسند ھ ہائی کورٹ کی جانب سے کالعدم قراردینے کے خلاف سندھ حکومت، رضا محمد شر، غلام مرتضیٰ، شفیق احمد، بابر صالح، عبدالرائوف، غلام علی المعروف طارق احمد اوردیگر کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف دائر 11متفرق درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سلمان اکرم راجہ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ، افنان کریم کنڈی، سرمد ہانی بطور وکیل پیش ہوئے جبکہ مدعاعلیہان کی جانب سے سعد ممتاز ہاشمی، سینیٹر حامد خان ایڈووکیٹ، ذووالفقار خالد ملوکا، اجمل غفار طور اوردیگر بطور وکیل پیش ہوئے۔ سندھ حکومت کے وکیل سرمد ہانی کاکہنا تھا کہ دائرہ اختیارکامعاملہ تھا، آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ معاملہ دیکھ سکتی ہے کہ نہیں، قانون کے مطابق سروسز ٹربیونل معاملہ دیکھ سکتا تھا،مقدمہ کی سماعت کے پہلے اوردوسرے رائونڈ میں ہائی کورٹ نے معاملہ کو غلط انداز میں سمجھا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی جانب سے ہائی کورٹ
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔
لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔