روس کے یوکرین کے توانائی نظام اور رہائشی عمارتوں پر درجنوں میزائل اور ڈرون حملے، 6 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں پر کیے گئے شدید میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
یوکرینی حکام کے مطابق، Dnipro شہر میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں 2 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوئے، جب کہ Zaporizhzhia میں 3 اموات رپورٹ ہوئیں۔ حکام نے بتایا کہ روس نے یوکرین بھر میں مجموعی طور پر 25 مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں دارالحکومت کیف بھی شامل ہے۔
یوکرینی وزیراعظم کے مطابق، خارکیف اور کیف کے علاقوں میں اہم توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہو گئی، تاہم بحالی کا کام جاری ہے۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روس نے رات کے دوران 450 سے زائد ڈرونز اور 45 میزائل داغے، جن میں سے 406 ڈرونز اور 9 میزائل تباہ کر دیے گئے۔ دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے 79 یوکرینی ڈرونز مار گرائے۔
یوکرینی وزارتِ توانائی کے مطابق، Dnipro سمیت کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کے مراکز پر حملے یوکرینی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے کیے گئے، جبکہ صدر وولودیمیر زیلینسکی نے مغربی ممالک سے روس پر عائد توانائی پابندیوں میں کسی نرمی سے گریز کی اپیل کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔