فلپائن میں ہولناک سمندری طوفان کالمیگی کی تباہ کاریاں، 140 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
منیلا: فلپائن میں تباہ کن سمندری طوفان کالمیگی (Kalmaegi) نے وسطی علاقوں کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں 140 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، طوفان کے باعث 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں اور طغیانی نے شہر سیبو سمیت کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلوں نے درجنوں مکانات، گاڑیاں اور شپنگ کنٹینرز بہا دیے۔
حکام کے مطابق، طوفان کالمیگی کو رواں سال 2025 کا سب سے خطرناک طوفان قرار دیا گیا ہے۔ صورتحال بگڑنے پر صدر مارکوس نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔
People solemnly kneel & pray — at least 140 killed in Typhoon Kalmaegi in Philippines
Storm now heading for Vietnam pic.
دوسری جانب، رپورٹس کے مطابق یہ طوفان فلپائن میں تباہی مچانے کے بعد اب ویتنام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ویتنامی حکام نے ہنگامی اقدامات کے تحت 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد فوجی اور ریسکیو اہلکار تعینات کر دیے ہیں، ساحلی علاقوں سے شہریوں کے انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ہوائی اڈے اور مرکزی شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگلے 24 گھنٹوں میں طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے خطے میں انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک