معروف بھارتی فلم ساز انوراگ کشیپ نے آخرکار اس سوال پر خاموشی توڑ دی کہ بالی ووڈ کا اصل بادشاہ کون ہے؟ شاہ رخ خان، سلمان خان یا عامر خان؟

ایک انٹرویو میں گینگز آف واسے پور کے ڈائریکٹر نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

انوراگ کشیپ نے کہا کہ شاہ رخ خان سب سے زیادہ مقبول ہیں، پھر سلمان اور اس کے بعد عامر جبکہ عامر خان سب سے محنتی اور سمجھ دار ہیں۔

انہوں نے تینوں خانز کے منفرد انداز اور خوبیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہر ایک نے اپنی محنت اور شناخت سے بالی ووڈ میں ایک منفرد مقام بنایا ہے۔

انوراگ کشیپ کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر فوری طور پر توجہ حاصل کر لی، جہاں مداحوں کی بڑی تعداد نے اتفاق کیا کہ شاہ رخ خان آج بھی عالمی سطح پر سب سے زیادہ مقبول بھارتی اسٹار ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انوراگ کشیپ نے اب تک تینوں خانز میں سے کسی کے ساتھ بطور ہدایت کار کوئی فلم نہیں بنائی، ان کی فلم سازی کا انداز ہمیشہ غیر روایتی اور جرات مندانہ رہا ہے، جو مرکزی دھارے کی فلموں سے مختلف تصور کیا جاتا ہے۔

البتہ وہ شاہ رخ خان کے ساتھ زویا اختر کی فلم لک بائی چانس میں ایک مختصر کردار میں نظر آ چکے ہیں۔

انوراگ کے بھائی ابھینو کشیپ نے سلمان خان کے ساتھ 2010 کی سپرہٹ فلم دبنگ ڈائریکٹ کی تھی، لیکن فلم کی غیر معمولی کامیابی کے بعد دونوں بھائیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے جو آج تک برقرار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انوراگ کشیپ نے شاہ رخ خان

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین