مجھے کبھی نہیں لگا کہ میں شاہ رُخ خان جیسا دکھائی دیتا ہوں، ساحر لودھی
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
اداکار اور میزبان ساحر لودھی نے حالیہ انٹرویو میں اس تاثر کی تردید کی ہے کہ ان کی شکل بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان سے مشابہت رکھتی ہے۔
ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران ساحر لودھی نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ وہ شاہ رخ خان جیسے دکھتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران میزبان نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ انہیں ساحر لودھی کا چہرہ اب شاہ رخ خان جیسا لگتا ہے اور انٹرویو کے دوران انہیں یہ مشابہت دیکھ کر حیرت ہوئی۔ میزبان نے پوچھا کہ کہیں انہوں نے کوئی سرجری تو نہیں کروائی، جس پر ساحر لودھی نے قہقہہ لگاتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے کبھی کوئی سرجری کروائی ہے۔
ساحر لودھی کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی شخصیت سے متعلق کبھی کوئی الجھن نہیں رہی، البتہ اگر کسی اور کو ایسی الجھن ہو تو وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شاہ رخ خان نہیں ہیں، البتہ ان سے ایک ملاقات کے دوران تقریباً دو گھنٹے گفتگو ہوئی تھی، جس میں انہوں نے محسوس کیا کہ شاہ رخ ایک شاندار فنکار اور بہترین انسان ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر دنیا کو لگتا ہے کہ ان کی شکل شاہ رخ خان سے ملتی ہے تو وہ اس پر کچھ نہیں کرسکتے، کیونکہ وہ ساحر لودھی ہیں اور ہمیشہ اپنی شناخت کے ساتھ ہی رہنا پسند کریں گے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ساحر لودھی شاہ رخ خان کے دوران انہوں نے کیا کہ
پڑھیں:
تیسرے آپریشن کے بعد آنیوالی خواتین کا مانع حمل آپریشن کر دینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
فیملی پلاننگ سمٹ سے خطان کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سی سیکشن کی وجہ سے سندھ میں شرحِ اموات بڑھ رہی ہے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور بہت جلد اس کے نتائج نظر آئیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا کہنا ہے کہ تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے۔ کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں جاری چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ پاکستان میں ہر 45 منٹ بعد ایک خاتون حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان سے محروم ہو جاتی ہے، ماں کی زندگی بچانے کیلئے خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی سہولیات تک رسائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدہ اور ہنگامی زچگی کے کیسز کو بروقت اسپتال منتقل کرنے کیلئے ایمبولینس سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ صحت کے مراکز پر ادویات اور ضروری طبی سامان کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے سپلائی چین کے نظام میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے، تاکہ بنیادی سطح پر کام کرنے والے طبی عملے کو مریضوں کی جان بچانے کیلئے تمام ضروری سہولیات دستیاب ہوں۔
عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ آج میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ سندھ کیا کر رہا ہے، سندھ حکومت کیا کر رہی ہے، اور سندھ اس حوالے سے ملک میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے ایسے قوانین بنائے ہیں جو کہیں اور موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی سیکشن کی وجہ سے سندھ میں شرحِ اموات بڑھ رہی ہے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور بہت جلد اس کے نتائج نظر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خاتون تیسرے سی سیکشن کے بعد آئے، اس کی ٹی ایل کر دینی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہیں، اس لیے اس میں بہتری کیلئے پیدائشی اسٹیشن سینٹرز بنائے جا رہے ہیں۔