مجھے کبھی نہیں لگا کہ میں شاہ رُخ خان جیسا دکھائی دیتا ہوں، ساحر لودھی
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
اداکار اور میزبان ساحر لودھی نے حالیہ انٹرویو میں اس تاثر کی تردید کی ہے کہ ان کی شکل بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان سے مشابہت رکھتی ہے۔
ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران ساحر لودھی نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ وہ شاہ رخ خان جیسے دکھتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران میزبان نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ انہیں ساحر لودھی کا چہرہ اب شاہ رخ خان جیسا لگتا ہے اور انٹرویو کے دوران انہیں یہ مشابہت دیکھ کر حیرت ہوئی۔ میزبان نے پوچھا کہ کہیں انہوں نے کوئی سرجری تو نہیں کروائی، جس پر ساحر لودھی نے قہقہہ لگاتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے کبھی کوئی سرجری کروائی ہے۔
ساحر لودھی کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی شخصیت سے متعلق کبھی کوئی الجھن نہیں رہی، البتہ اگر کسی اور کو ایسی الجھن ہو تو وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شاہ رخ خان نہیں ہیں، البتہ ان سے ایک ملاقات کے دوران تقریباً دو گھنٹے گفتگو ہوئی تھی، جس میں انہوں نے محسوس کیا کہ شاہ رخ ایک شاندار فنکار اور بہترین انسان ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر دنیا کو لگتا ہے کہ ان کی شکل شاہ رخ خان سے ملتی ہے تو وہ اس پر کچھ نہیں کرسکتے، کیونکہ وہ ساحر لودھی ہیں اور ہمیشہ اپنی شناخت کے ساتھ ہی رہنا پسند کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ساحر لودھی شاہ رخ خان کے دوران انہوں نے کیا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔