مجھے کبھی نہیں لگا کہ میں شاہ رُخ خان جیسا دکھائی دیتا ہوں، ساحر لودھی
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
اداکار اور میزبان ساحر لودھی نے حالیہ انٹرویو میں اس تاثر کی تردید کی ہے کہ ان کی شکل بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان سے مشابہت رکھتی ہے۔
ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران ساحر لودھی نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ وہ شاہ رخ خان جیسے دکھتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران میزبان نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ انہیں ساحر لودھی کا چہرہ اب شاہ رخ خان جیسا لگتا ہے اور انٹرویو کے دوران انہیں یہ مشابہت دیکھ کر حیرت ہوئی۔ میزبان نے پوچھا کہ کہیں انہوں نے کوئی سرجری تو نہیں کروائی، جس پر ساحر لودھی نے قہقہہ لگاتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے کبھی کوئی سرجری کروائی ہے۔
ساحر لودھی کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی شخصیت سے متعلق کبھی کوئی الجھن نہیں رہی، البتہ اگر کسی اور کو ایسی الجھن ہو تو وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شاہ رخ خان نہیں ہیں، البتہ ان سے ایک ملاقات کے دوران تقریباً دو گھنٹے گفتگو ہوئی تھی، جس میں انہوں نے محسوس کیا کہ شاہ رخ ایک شاندار فنکار اور بہترین انسان ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر دنیا کو لگتا ہے کہ ان کی شکل شاہ رخ خان سے ملتی ہے تو وہ اس پر کچھ نہیں کرسکتے، کیونکہ وہ ساحر لودھی ہیں اور ہمیشہ اپنی شناخت کے ساتھ ہی رہنا پسند کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ساحر لودھی شاہ رخ خان کے دوران انہوں نے کیا کہ
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔