کیا واقعی ظہران ممدانی، ارسلان ناصر کے ’کزن‘ ہیں؟ یوٹیوبر نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
پاکستانی یوٹیوبر اور اداکار ارسلان ناصر نے ظہران ممدانی کو ’دور کا کزن‘ قرار دے دیا۔
نیویارک کے نومنتخب ایشیائی نژاد پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی بھارت و پاکستان میں خاص توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
اب سوشل میڈیا صارفین نیویارک کے نومنتخب میئر کا موازنہ یوٹیوبر اور اداکار ارسلان ناصر سے کر رہے ہیں۔
صارفین کے مطابق ظہران ممدانی اور ارسلان ناصر کی شکلیں آپس میں ایک دوسرے سے کافی مشابہت رکھتی ہیں۔
صارفین کے دلچسپ تبصروں نے یوٹیوبر اور اداکار کی توجہ حاصل کی تو وہ بھی خاموش نہ رہ سکے۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ارسلان ناصر نے اسٹوری شیئر کی اور اپنے مزاحیہ انداز میں خود کو ظہران ممدانی کا ’دور کا کزن‘ قرار دے دیا۔
انہوں نے ایک صارف کے تبصرے کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہاں گائیز، یہ سچ ہے، وہ میرا کزن ہے۔ مبارک ہو پاکستان اب ہمارا دور کا کزن نیویارک کا میئر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ارسلان ناصر
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔